- Advertisement -

جلا کر نفس کو جگنو، اندھیرا دُور کرتا ھے

طارق اقبال حاوی کی ایک اردو نظم

وجود ھے ناتواں، ھمت مگر ضرور کرتا ھے

جلا کر نفس کو جگنو، اندھیرا دُور کرتا ھے

سفرِ تیرگی میں اِک، بھلی اُمید ھے جگنو

ظلمت کے نگر میں، ساعتِ سعید  ھے جگنو

کہنے کو یہ جگنو اِک، بہت حقیر پیکر ھے

قریب اہلِ نظر کے یہ، مگر فقیر پیکر ھے

ھے کتنی بے ضرر ھستی، کاسِ مدام ھو کر بھی

نہیں شعلہ مزاجی ھے، یوں شعلہ فام ھو کر بھی

سراپا نور ھے فطرت، امن پیغام جگنو کا

لیا جاتا ھے اچھوں میں، سدا ھی نام جگنو کا

اگرچہ ساتھ ھیں رھتے، مگر مسئلہ نہیں ھوتا

کسی جگنو کو جگنو سے، کوئی خطرہ نہیں ھوتا

اچھی یاد کا دل کو، خوشی دینا بھی جگنو ھے

کسی روتے کے چہرے پر، ھنسی دینا بھی جگنو ھے

قلم کو بھر کے جگنو سے، ھے حاوی اتنا بس لکھتا

اگر ھر سوچ ھو جگنو، تو جنت سی ھو یہ دُنیا

طارق اقبال حاوی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
فیض احمد فیض کوئز میں حصہ لیں