اس بات کا خود اسکو بھی ادراک بڑا ہے
معصوم نظر آتا ہے ، چالاک بڑا ہے
سو بار ، بناتے ہوئے توڑا گیا کوزہ
یہ دستِ ہنر مند بھی سفاک بڑا ہے
کچھ بھی نہیں ہوتا ہے تو کچھ ہوتا ہے پھر بھی
بے گھر کے لیے سایہ ء افلاک بڑا ہے
پیمانہ بڑائی کا یہاں پیسہ نہیں ہے
جو خود کو بڑا کہتا ہے کیا خاک بڑا ہے ؟
مجھ چوٹ زدہ کے کوئی نزدیک نہ آئے
ٹوٹا ہوا یہ شیشہ خطرناک بڑا ہے
کومل جوئیہ








