آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

افغان باقی کہسار باقی

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

افغان باقی کہسار باقی؛ اُمید، حقیقت اور ہماری آزمائش
دنیا کی تاریخ میں مہاجرین ہمیشہ ایک حساس اور پیچیدہ موضوع رہے ہیں۔ افغانستان کے ہزاروں مہاجرین، جنہوں نے صدیوں کی جنگ، خانہ جنگی اور معاشرتی ابتری کے بعد اپنے گھروں کو چھوڑا، دنیا کے مختلف ممالک میں پناہ تلاش کرتے رہے۔ پاکستان اور ایران نے کئی دہائیوں تک انہیں پناہ دی، مگر آج صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ ایران نے لاکھوں افغانوں کو ملک بدر کر دیا اور پاکستان میں بھی مہاجرین کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

۲۰۲۵ میں امریکی صدر کے بیان کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں ایک فوجی خاتون پر حملے کا واقعہ سامنے آیا، جس میں حملہ آور ایک افغان مہاجر تھا۔ امریکی حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے

afghan kohsar
Kabul, December 2017. (AFP / Wakil Kohsar)       

پناہ گزین پروگرام میں سختیاں کر دی اور افغان مہاجرین کے کیسز پر دوبارہ نظرثانی کا اعلان کیا۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر افغان مہاجرین کی پذیرائی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور یہ ظاہر کیا کہ امید اور حقیقت کے درمیان ایک گہرا فرق موجود ہے۔

پاکستان میں بھی افغان مہاجرین کے حوالے سے کئی دعوے سامنے آئے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ افغان مہاجرین افغانستان سے آنے والے فتنہ الخوارج کو پناہ دیتے ہیں۔ الزامات میں شامل ہیں غیر قانونی رہائش، منشیات کی تجارت، چھوٹے جرائم اور بعض سماجی مسائل۔ حالیہ برسوں میں حکومت نے ایسے افغان شہریوں کے خلاف اقدامات کیے اور بعض کو ملک بدر کیا۔ یہ الزامات، چاہے بعض حقیقی ہوں یا مبینہ، پاکستانی معاشرے میں افغان مہاجرین کے خلاف عمومی تشویش پیدا کر چکے ہیں۔

ایران کی مثال بھی قابل غور ہے۔ وہاں لاکھوں افغان مہاجرین کو قانونی وجوہات کے تحت ملک بدر کر دیا گیا۔ ایران نے ان کے عارضی رجسٹریشن یا غیر قانونی رہائش کے امور کو بنیاد بنا کر انہیں واپس بھیجا۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس اقدام پر تنبیہ کرتی ہیں کہ یہ بے دخلیاں انسانی حقوق کے لیے خطرہ ہیں، مگر ایران نے اپنی سکیورٹی اور داخلی پالیسی کے نام پر یہ اقدام مکمل کیا۔

پاکستان اور ایران کے اقدامات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ مہاجرین کے معاملے میں نہ صرف امید بلکہ حقیقت پسندی بھی لازمی ہے۔ مہاجرین کو پناہ دینا انسانیت کا تقاضا ہے، مگر قانون، سماجی ضابطہ اور ریاستی تحفظ کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

افغانی مہاجرین کے کردار پر تنقیدی نگاہ ڈالیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ معاشرتی نظم و ضبط میں ان کی شمولیت ہرگز مثالی نہیں رہی۔ پاکستان میں بعض افغان مہاجرین نے سماجی اور قانونی حدود کی خلاف ورزی کی، جس سے عوامی رائے میں شک و شبہ پیدا ہوا۔ ایران میں بھی صورتحال مختلف نہیں تھی، جہاں غیر قانونی رہائش رکھنے والے افغان شہریوں کو ملک بدر کیا گیا۔ ان حقائق کے پیش نظر، افغان مہاجرین کے مثبت کردار کی کہانی کم ہی سامنے آتی ہے۔

کیا ہم نے انہیں امید کی روشنی کے ساتھ قبول کیا اور توقعات لگائیں؟ بے شک، لگائیں۔ مگر اب یہ حقیقت سامنے آ رہی ہے کہ امید اور حقیقت میں فرق بہت بڑا ہوتا ہے۔ انسانی فطرت چاہتی ہے کہ مہاجرین کو قبول کیا جائے، مگر اگر وہ قانون اور معاشرتی ضابطے کی پاسداری نہیں کرتے، تو نتائج بھاری ہوتے ہیں۔

امریکہ میں ہونے والے حالیہ واقعے نے یہ حقیقت اور بھی واضح کر دی ہے۔ ایک افغان مہاجر نے فوجی اہلکار پر حملہ کیا، جس سے نہ صرف امریکی پالیسی سخت ہوئی بلکہ افغان مہاجرین کے بارے میں عمومی رائے بھی منفی ہو گئی۔ یہ واقعہ عالمی سطح پر افغان مہاجرین کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے کہ آیا امید لگانا ایک درست قدم تھا یا ہمیں حقیقت پر توجہ دینی چاہیے تھی؟

پاکستان میں بھی الزامات اور شکایات کافی سنجیدہ ہیں۔ افغان مہاجرین پر الزام لگایا گیا کہ وہ بعض خطرناک عناصر کو چھپاتے ہیں یا سماجی طور پر نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، منشیات کی تجارت اور چھوٹے جرائم کی رپورٹس نے عوام میں خوف پیدا کیا۔ حکومت نے بعض علاقوں میں افغان مہاجرین کی نقل و حرکت محدود کی، کچھ کو ملک بدر کیا اور قانونی دستاویزات کے بغیر رہائش رکھنے والوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ یہ تمام عوامل ظاہر کرتے ہیں کہ مہاجرین کے مسئلے میں امید کے ساتھ حقیقت پسندی لازمی ہے۔

افغان باقی کہسار باقی کے نعرے کے پیچھے جو تصور تھا، وہ ایک جذباتی امید تھی۔ ہم نے سوچا کہ افغان مہاجرین ہمارے معاشرتی ضابطوں اور انسانی اقدار کے ساتھ ضم ہوں گے۔ مگر حقیقت نے یہ دکھا دیا کہ صرف امید کافی نہیں۔ بعض مہاجرین نے سماجی قوانین کی خلاف ورزی کی، بعض نے غیر قانونی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور بعض نے انسانی اعتماد کو نقصان پہنچایا۔ یہ سب عوامل ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ مہاجرین کے معاملے میں توقعات اور حقیقت کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔

ایران اور پاکستان کی مثالیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ جب مہاجرین سماجی، قانونی اور اخلاقی ضابطوں کی پاسداری نہیں کرتے، تو میزبان ممالک کے لیے یہ ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ ایران نے لاکھوں افغان مہاجرین کو واپس بھیجا، پاکستان نے قانونی کارروائی کی، اور امریکہ نے اپنے پناہ گزین پروگرام میں تبدیلیاں کیں۔ یہ سب اقدامات امید اور حقیقت کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہیں۔

مہاجرین کے مثبت کردار کی کمی نے بھی مسائل کو بڑھایا ہے۔ اگرچہ کچھ افراد نے محنت کی یا امن پسندانہ رویہ اختیار کیا، مگر مجموعی تصویر یہ نہیں ہے کہ افغان مہاجرین نے اپنی میزبانی کے بدلے مثبت شراکت دی۔ یہ حقیقت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ مہاجرین کے معاملے میں ہمیں صرف امید نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ اقدامات کرنے چاہئیں۔

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم مہاجرین کے خلاف ہو جائیں؟ نہیں۔ انسانی ہمدردی، انصاف اور قانونی اصول ہمیں یہ حکم دیتے ہیں کہ ہر فرد کو انفرادی بنیاد پر پرکھیں، اجتماعی سزا نہ دیں۔ مہاجرین بھی انسان ہیں، انہیں خوف، امید اور زندگی گزارنے کے حق کا حق حاصل ہے۔ مگر اگر وہ سماجی ضابطے اور قانون کی پاسداری نہیں کرتے، تو نتائج بھاری ہوتے ہیں۔

پاکستان، ایران اور امریکہ کے تجربات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ مہاجرین کے معاملے میں اخلاقی اصول، قانونی ضابطہ اور حقیقت پسندی لازمی ہیں۔ امید صرف الفاظ یا نعرے سے پوری نہیں ہوتی، عملی اقدامات اور ذمہ داری کے ساتھ یہ ممکن ہے۔ ہمیں چاہیے کہ مہاجرین کے حقوق اور فرائض کا توازن قائم کریں، قانون اور انسانی ہمدردی دونوں کو مدنظر رکھیں، اور جذباتی فیصلوں سے گریز کریں۔

آخر میں، افغان مہاجرین کے مسئلے نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ انسانی ہمدردی، امید اور انصاف کے درمیان توازن قائم کرنا کتنا ضروری ہے۔ مہاجرین کے لیے پناہ دینا اچھا ہے، مگر حقیقت، قانون اور سماجی ضابطے کے بغیر یہ عمل خطرناک ہو سکتا ہے۔ افغان باقی کہسار باقی کے نعرے کے پیچھے اگر ہم نے صرف امید رکھی اور حقیقت نظرانداز کی، تو یہ نعرہ محض الفاظ رہ جائے گا۔

ہمیں چاہیے کہ امید لگائیں، مگر حقیقت کے ساتھ۔ مہاجرین کے انسانی حقوق کا احترام کریں، مگر سماجی ضابطہ، قانون اور اخلاقیات کو ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ یہی ہماری آزمائش ہے، یہی ہماری ذمہ داری ہے اور یہی وہ سبق ہے جو ہم نے افغان مہاجرین کے حالات سے سیکھنا چاہیے۔

 یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button