اپنے تُو اندر چھپی آہ کو تمام کر
سب کو نظر آئے جو جاہ کو تمام کر
پل میں بدلتا ہے نقشہ جو مقدر کا گر
لوگوں سے وابستہ اِس چاہ کو تمام کر
تجھ کو یہاں ساتھ لے کر چلے گا کون پر
جس پہ نہ چلنا ہو پھر راہ کو تمام کر
دیس تقاضا یہ کرتا ہے محبت کا خود
نفرتوں میں ڈوبے گمراہ کو تمام کر
شب کے تھے جاگے وہ کب کے سو چکے ہیں مگر
زندگی میں پھیلی شب گاہ کو تمام کر
تجھ کو ملے ایک موجوں کا نگر خود میں جب
پھیلی ہوئی ہر سُو افواہ کو تمام کر
بات سے تیری اگر دل کسی کا بھی دُکھے
باقیوں سے ملتی پھر واہ کو تمام کر
علمِ بشر سے تو ملتی یہاں تنہائی ہے
لوگوں سے ہونا یوں آگاہ کو تمام کر
آؤ چلیں بے وفا شہر سے ہم اب کہیں
گھر تھا جہاں اُس گزر گاہ کو تمام کر
محمد نعیم







