میرے وطن کو کوئی دعا لگ نہیں رہی
اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل
میرے وطن کو کوئی دعا لگ نہیں رہی
ہے حبس کامیاب ، ہوا لگ نہیں رہی
سب اپنے دائرے میں ہیں فرعونِ بے لگام
مخلوق مجھ کو زیرِ خدا لگ نہیں رہی
کہتی تھی چیخ چیخ کے دلہن کی خامشی
بابل تُو غور کر ، یہ حنا لگ نہیں رہی
چھوٹی ہے دشتِ ہجر میں ایسے نمازِ وصل
ممکن مجھے ادائے قضا لگ نہیں رہی
ہے تیرے نام کا بھی عجب ہی معاملہ
برباد ہو رہا ہوں ، سزا لگ نہیں رہی
مضمون کو یہ رنج کہ سرقہ میں ہے شمار
مصرعے کا دکھ یہ ہے کہ عطا لگ نہیں رہی
تیری سہیلیاں بھی حسیں ہیں مگر مجھے
اچھی کوئی بھی تیرے سوا ، لگ نہیں رہی
وہ جا رہا ہے چھوڑ کے جس اعتماد سے
اس شخص کی یہ پہلی جفا لگ نہیں رہی
کمرے کے اور سینے کے موسم میں فرق دیکھ
کھڑکی کو کھول کر بھی ہوا لگ نہیں رہی
کہتی تو ہے معاف مجھے کیجیے , مگر
شرمندۂ خطاۓ جفا، لگ نہیں رہی
کوئی سبیل کیجیے دیدارِ یار کی
بیمارِ دل کو کوئی دوا لگ نہیں رہی
اظہر عباس خان








