- Advertisement -

Yeh To Nahi Farhad Se Yaari

An Urdu Ghazal By Abbas Tabish

یہ تو نہیں فرہاد سے یاری نہیں رکھتے

ہم لوگ فقط ضربت کاری نہیں رکھتے

قیدی بھی ہیں اس شان کے آزاد تمہارے

زنجیر کبھی زلف سے بھاری نہیں رکھتے

مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کار محبت

آغاز تو کر لیتے ہیں جاری نہیں رکھتے

جیتے ہیں مگر زیست کو آزار سمجھ کر

مرتے ہیں مگر موت سے یاری نہیں رکھتے

مہمان سرا دل کی گرا دیتے ہیں پل میں

ہم صدقۂ جاری کو بھی جاری نہیں رکھتے

تنہا ہی نکلتے ہیں سر کوئے ملامت

ہم راہ کبھی ذلت و خواری نہیں رکھتے

عباس تابش

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Urdu Ghazal By Abbas Tabish