آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریصابر رضوی

مرے صحرا تشنہ دہانیوں سے بھرے ہوئے

صابر رضوی کی ایک اردو غزل

مرے صحرا تشنہ دہانیوں سے بھرے ہوئے
ترے دریا دریا روانیوں سے بھرے ہوئے

جہاں بستی والوں نے روشنی کی دعائیں کیں
وہاں سب چراغ تھے پانیوں سے بھرے ہوئے

تری آنکھ بدلی تو میں بھی چھوڑ کے آگیا
کئی باغ رات کی رانیوں سے بھرے ہوئے۔

مری ہجرتوں پہ سوال کرتے ہیں روز و شب
مرے پاںوں نقل مکانیوں سے بھرے ہوئے

تری دید کرنے کو دیکھتا ہوں میں گاہ گاہ
یہ صحیفے تیری نشانیوں سے بھرے ہوئے

مرے بچپنے کی شرارتوں کو بھی کھا گئے
یہ نصاب جھوٹی کہانیوں سے بھرے ہوئے

صابر رضوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button