کشمیر ایک ادھورا وعدہ اور زندہ جدوجہد
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
یومِ یکجہتیٔ کشمیر محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ ایک زندہ ضمیر کی آواز ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کسی نقشے کی لکیر کا نام نہیں بلکہ ان لاکھوں انسانوں کی کہانی ہے جو دہائیوں سے اپنے بنیادی حق کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔
کشمیر برصغیر کی تقسیم کے وقت سے ایک ادھورا وعدہ ہے۔ کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت دینے کا اعلان تو کیا گیا مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ وعدہ عالمی بے حسی کی نذر ہو گیا۔
اقوامِ متحدہ کی قراردادیں آج بھی موجود ہیں، جو اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ کشمیری عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن ان قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہونا عالمی انصاف کے دعووں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ایک تلخ حقیقت بن چکی ہیں۔ طویل کرفیو، مواصلاتی پابندیاں، جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل روزمرہ کی خبریں ہیں۔ سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان مظالم کا نشانہ بننے والوں میں عورتیں، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ قدرتی حسن سے مالا مال وادی آج ظلم اور جبر کی علامت بن چکی ہے۔
اس تمام جبر کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے آج بھی قائم ہیں۔ ان کی جدوجہد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طاقت کے زور پر آزادی کی خواہش کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیری ماؤں کی قربانیاں اور نوجوانوں کی استقامت دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں، اگر دنیا سننے کو تیار ہو۔
پاکستان نے ابتدا سے کشمیر کے معاملے پر اصولی اور واضح مؤقف اپنایا ہے۔ ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کی آواز بننے کی کوشش کی گئی ہے۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر اسی عزم کا اظہار ہے کہ کشمیری عوام کبھی تنہا نہیں چھوڑے جائیں گے۔
آج سب سے بڑی ذمہ داری ہماری نئی نسل پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو کشمیر کی تاریخ، جدوجہد اور قربانیوں سے آگاہ نہیں کریں گے تو یکجہتی محض ایک نعرہ بن کر رہ جائے گی، جس کا کوئی عملی اثر باقی نہیں رہے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ سیاست سے کہیں بڑھ کر انسانیت کا مسئلہ ہے۔ جب تک دنیا مظلوم کے ساتھ کھڑی نہیں ہوگی، امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کشمیری عوام کو صبر، استقامت اور جلد آزادی نصیب فرمائے اور یہ زخمی وادی ایک بار پھر امن، سکون اور خوشحالی کا گہوارہ بنے۔
یوسف صدیقی








