جنگ اور موت کی نظمیں
بین کرتی پھرتی ہیں
مگر کوئی سننے والا نہیں
سفید پرندے کی چونچ میں
سسکاریاں بھرتے نوحے بھی
موت کے ماتھے کا بوسہ لے کر
خاموشی کے آگے سرنڈر کر چکے ہیں
تمھیں معلوم ہے
خاموشی بھی موت ہوتی ہے
اذیت ناک موت
سب نے دیکھا کہ
جب چہار سو خاموشیوں کے ڈھیر لگے تھے اور
لفظوں کے لاشے
کچے دھویں کی باس سے
دم گھٹنے سے جاں بلب تھے تو
دھویں اور بارود کی منڈی میں
مندی کے بجائے
یکدم تیزی آ گئی تھی
اس سے پہلے کہ موت
ٹیڑھی میڑھی خاموش پرچھائیوں کی صورت
مارچ کرتی
تمھاری جانب روانہ ہو اور
بے لفظی چیخیں تمھیں ادھیڑ کر رکھ دیں
موت کے بھوتنے دیوانہ وار تمھیں نوچنے لگیں
آؤ ،
خاموشی کا گلا کاٹنے کے لیے
سردار آوازوں کا اکٹھ کریں
روتی چیختی اور کرلاتی ہوئی آوازیں
ایسا نہ کیا تو
جان لو!
تاریخ کے گلے سڑے پنوں پر
جو لاشیں ملیں گی
ان کے سر ہوں گے مگر
زبانیں کٹی ہوں گی
جان لو!!
نجمہ منصور








