آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعرینجمہ منصور

خاموشی بھی موت ہوتی ہے

ایک اردو نظم از نجمہ منصور

جنگ اور موت کی نظمیں
بین کرتی پھرتی ہیں
مگر کوئی سننے والا نہیں
سفید پرندے کی چونچ میں
سسکاریاں بھرتے نوحے بھی
موت کے ماتھے کا بوسہ لے کر
خاموشی کے آگے سرنڈر کر چکے ہیں
تمھیں معلوم ہے
خاموشی بھی موت ہوتی ہے
اذیت ناک موت

سب نے دیکھا کہ
جب چہار سو خاموشیوں کے ڈھیر لگے تھے اور
لفظوں کے لاشے
کچے دھویں کی باس سے
دم گھٹنے سے جاں بلب تھے تو
دھویں اور بارود کی منڈی میں
مندی کے بجائے
یکدم تیزی آ گئی تھی

اس سے پہلے کہ موت
ٹیڑھی میڑھی خاموش پرچھائیوں کی صورت
مارچ کرتی
تمھاری جانب روانہ ہو اور
بے لفظی چیخیں تمھیں ادھیڑ کر رکھ دیں
موت کے بھوتنے دیوانہ وار تمھیں نوچنے لگیں
آؤ ،
خاموشی کا گلا کاٹنے کے لیے
سردار آوازوں کا اکٹھ کریں
روتی چیختی اور کرلاتی ہوئی آوازیں
ایسا نہ کیا تو
جان لو!
تاریخ کے گلے سڑے پنوں پر
جو لاشیں ملیں گی
ان کے سر ہوں گے مگر
زبانیں کٹی ہوں گی
جان لو!!

نجمہ منصور

post bar salamurdu

نجمہ منصور

نجمہ منصور ۹نومبر ۱۹۶۶ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ ۱۹۸۰ء میں میٹرک گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سرگودھا سے کیا اور ایم۔اے تاریخ اور ایم۔اے ایجوکیشن کی ڈگری بھی حاصل کی۔ نجمہ منصور بنیادی طور پر نثری نظم کی شاعرہ ہیں شاعری کا آغاز کالج دور سے ہوا۔ پہلی کتاب 1990 میں شائع ہوئی مگر ان کا علمی و ادبی سفر صرف شاعری تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ ایک بہترین ریسرچ اسکالر کے طور پر بھی اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہیں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہی ہیں ان کی ایک کتاب ،، اگر نظموں کے پر ہوتے ،، کا ترجمہ انگریزی زبان میں بھی ہو چکا ہے۔ ان کی تقریباً دو درجن کے لگ بھگ کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button