اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے
عظمت عشق بڑھا دی ہم نے

جب کوئی تازہ شگوفہ پھوٹا
کی گلستاں میں منادی ہم نے

آنچ صیاد کے گھر تک پہنچی
اتنی شعلوں کو ہوا دی ہم نے

جب چمن میں نہ کہیں چین ملا
در زنداں پہ صدا دی ہم نے

دل کو آنے لگا بسنے کا خیال
آگ جب گھر کو لگا دی ہم نے

اس قدر تلخ تھی روداد حیات
یاد آتے ہی بھلا دی ہم نے

حال جب پوچھا کسی نے باقیؔ
اک غزل اپنی سنا دی ہم نے

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button