اردو غزلیاتحفیظ ہوشیارپوریشعر و شاعری

آج انہیں کچھ اس طرح جی کھول کر دیکھا کئے

حفیظ ہوشیارپوری کی اردو غزل

آج انہیں کچھ اس طرح جی کھول کر دیکھا کئے

ایک ہی لمحے میں جیسے عمر بھر دیکھا کئے

دل اگر بیتاب ہے دل کا مقدر ہے یہی

جس قدر تھی ہم کو توفیق نظر دیکھا کئے

خود فروشانہ ادا تھی میری صورت دیکھنا

اپنے ہی جلوے بہ انداز دگر دیکھا کئے

ناشناس غم فقط داد ہنر دیتے رہے

ہم متاع غم کو رسوائے ہنر دیکھا کئے

دیکھنے کا اب یہ عالم ہے کوئی ہو یا نہ ہو

ہم جدھر دیکھا کئے پہروں ادھر دیکھا کئے

حسن کو دیکھا ہے میں نے حسن کی خاطر حفیظؔ

ورنہ سب اپنا ہی معیار نظر دیکھا کئے

حفیظ ہوشیارپوری

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button