- Advertisement -

رات تھک ہار کے جب رخت ِسفر کھولتے ہیں

سید عدید کی ایک اردو غزل

رات تھک ہار کے جب رخت ِسفر کھولتے ہیں
یاد کے پنچھی قفس توڑ کے پر کھولتے ہیں

کیا ضروری ہے کہ جذبے کو تراشا جاۓ
آپ کہتے ہیں تو ہم دست ِہنر کھولتے ہیں

رات بھر کس کی صدا آتی ہے اس بستی سے
آنکھ سب لوگ جہاں وقت سحر کھولتے ہیں

اس کی تصویر کو آنکھوں میں مقفل کر کے
اپنے جذبات کا ہم ساتواں در کھولتے ہیں

سید عدید

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
افتخار شاہد کی ایک غزل