اردو غزلیاتساغر صدیقیشعر و شاعری

میرے چمن میں بہاروں کے

ایک اردو غزل از ساغر صدیقی

میرے چمن میں بہاروں کے پُھول مہکیں گے
مجھے یقیں ہے شراروں کے پُھول مہکیں گے

کبھی تو دیدئہ نرگس میں روشنی ہو گی
کبھی تو اُجڑے دیاروں کے پُھول مہکیں گے

تمہاری زلفِ پریشاں کی آبرو کے لیے
کئی ادا سے چناروں کے پُھول مہکیں گے

چمک ہی جائے گی شبنم لہُو کی بوندوں سے
روش روش پہ ستاروں کے پُھول مہکیں گے

ہزاروں موجِ تمنّا صدف اُچھالے گی
تلاطموں سے کناروں کے پُھول مہکیں گے

یہ کہہ رہی ہیں فضائیں بہار کی ساغر
جِگر فروز اشاروں کے پُھول مہکیں گے

ساغر صدیقی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button