آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفرید احمد

گو مرا نالہ حزیں ہے آہ میری ناتواں

فرید احمد کی ایک اردو غزل

گو مرا نالہ حزیں ہے آہ میری ناتواں
لامکاں تک ہیں رساں لیکن یہ مرغِ بے پراں

چشمِ بینا ہے تو ہے ظاہر سے باطن بھی عیاں
بے بصر پر ہے سرِ آئینہ عکسِ خود نہاں

ایں جہاں آئینہء صائب و رُوئے خود نما
کِذب بہرِ کاذباں، مخلص برائے مخلصاں

پیش و پس ہیں ہم مگر بے ربط ہم ہرگز نہیں
گوہرِ یک سُجہ ہیں نامہربان و مہرباں

یک دو جُرعہ ہو مُیسّر گر مئے خود آگہی
ریزہ ریزہ ہو کے بکھرے مستیِ عُجب و تواں

محرمِ ملکوت ہے تُو، رہروِ لاہوت ہے
جادہء ناسُوت پر کیونکر ہے منزل کا گماں

بے خبر اپنی حقیقت سے جو مشتِ خاک ہے
اے عجب، ہے مبتلائے دعویِٰ افلاک داں

ہر طرف جوہر ترا، ہر سُو تری جلوہ گری
عکس ہے تیرا، ترے آئینہ خانے میں عیاں

وائے، عقلِ کُور یہ پابندیِ جائے نظر
عالمِ اَسرار ہے تیرے تفکّر پر گراں

یہ سکُوتِ شب فرید ایسا تکلّم خیز ہے
لاتعلّق ہُوں اگرچہ، ہُوں میں زیبِ داستاں

فرید احمد

post bar salamurdu

فرید احمد

فرید احمد دیو - قلمی نام : فرید احمد - ڈالووالی سیالکوٹ پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button