آپ کا سلاماسلامی گوشہثوبیہ راجپوتسلام اہل بیت

ذکرِ زینبؑ میں ملا سوز و نوا، وہ باوفا

منقبتِ زینب از ثوبیہ راجپوت

ذکرِ زینبؑ میں ملا سوز و نوا، وہ باوفا
غم کی گہرائی میں بھی تھی رہنما، وہ باوفا

ظلم کے ایوان لرزے، تخت کانپے حرف سے
جب سنایا خطبۂ صدق و صفا، وہ باوفا

تشنہ لب، بے ساز و ساماں، ریگ زارِ کربلا
خون سے لکھتی رہی دینِ خدا، وہ باوفا

صرصرِ شب میں بھی جن کے حوصلے ٹوٹے نہیں
کربلا کی شاہزادی، باحیا، وہ باوفا

دربدر ہوتے ہوئے بھی صبر کا پیکر رہیں
زینبِ محشر نگاہِ کبریا، وہ باوفا

جب جفا نے ڈھانپ لی تھی ہر طرف ظلمت کی شب
حق کے منظر بن کے ابھری رہنما، وہ باوفا

خونِ دل سے لفظ چن کر کہہ رہی ہے ثوبیہ
زندگی کی اصل ہے نقشِ وفا، وہ باوفا

ثوبیہ راجپوت

post bar salamurdu

ثوبیہ راجپوت

ثوبیہ راجپوت پاکستان کے شہر سیالکوٹ کینٹ، اُورا میں 7 اپریل کو پیدا ہوئیں۔ ثوبیہ راجپوت نے اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف قارئین کے دلوں میں جگہ بنائی بلکہ بطور شاعرہ، نعت گو شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، تبصرہ نگار، تجزیہ نگار ،پنجابی اور اردو کی شاعری میں اپنی منفرد پہچان بناچکی ہیں۔ ان کی ادبی خدمات میں افسانوی مجموعہ "وجود شب" شامل ہے، جس میں انہوں نے مشاہدات و تجربات کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا نعتیہ مجموعہ بھی جلد منظر عام پر آرہا ہے جبکہ متعدد انتھالوجیز شائع ہو چکی ہیں۔ معاون ایڈیٹر: برج میڈیا یو ایس اے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button