اسلام میں نوجوانوں کا کردار اور ذمہ داریاں
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
نوجوان کسی بھی قوم کی سب سے طاقتور اور اہم قوت ہوتے ہیں۔ وہ معاشرتی تبدیلی، علمی ترقی اور قومی فلاح کے ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب نوجوان اپنی توانائی اور صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کرتے ہیں، تو نہ صرف اپنی زندگی بلکہ پورے معاشرے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
اسلام میں نوجوانوں کو علم و تعلیم حاصل کرنے کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔ ایک نوجوان جو علم حاصل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں لگن دکھائے، وہ زندگی کے ہر میدان میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
آج کے دور میں نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف کتابی علم میں ماہر ہوں بلکہ عملی زندگی میں بھی مہارت حاصل کریں۔ علم انہیں اخلاقی، روحانی اور معاشرتی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔
اخلاقی تربیت نوجوان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ایمانداری، شرافت، صبر اور عدل وہ ستون ہیں جن پر نوجوان کی شخصیت مضبوط ہوتی ہے۔ اگر نوجوان ان اخلاقی اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، تو وہ ہر قسم کے معاشرتی دباؤ اور مشکلات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ایسے نوجوان معاشرے کے لیے حفاظت اور استحکام کا باعث بنتے ہیں۔
نوجوانوں کی ایک اور اہم ذمہ داری معاشرتی خدمت ہے۔ دوسروں کی مدد، خیرات اور خدمت خلق نہ صرف اسلام میں بڑی قدر رکھتی ہیں بلکہ یہ نوجوان کو معاشرتی رشتوں میں مضبوط اور ذمہ دار بناتی ہیں۔ نوجوان اگر اپنی توانائی اور وسائل کو مثبت اور تعمیری کاموں میں لگائیں تو وہ اپنے معاشرے کے لیے قیمتی سرمایہ ثابت ہوتے ہیں۔
اسلام میں روحانی تربیت بھی نوجوان کی زندگی کا لازمی جزو ہے۔ نماز، روزہ اور اللہ کے ذکر سے نوجوان کی شخصیت میں سکون، استقامت اور حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ ایک متوازن روحانی زندگی نوجوان کو صحیح فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتی ہے اور وہ کسی بھی معاشرتی یا ذاتی چیلنج کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کر سکتا ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نوجوانوں کو اپنی صحت، تعلقات اور روزمرہ کی زندگی میں توازن برقرار رکھنا چاہیے۔ جسمانی صحت، اچھی عادات اور مثبت مشغلے نہ صرف زندگی کو خوشگوار بناتے ہیں بلکہ نوجوان کی توانائی کو صحیح سمت میں استعمال کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ دوست اور تعلقات بھی نوجوان کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اچھے دوست اور مثبت ماحول نوجوان کو برائی سے بچاتے اور ترقی کی راہ میں رہنمائی کرتے ہیں۔
قرآن و حدیث میں بھی نوجوانوں کے کردار کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اور نوجوانوں میں جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں گے”
(القصص: ٧٨)
اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے”
(ابن ماجہ)
ان دونوں حوالوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نوجوانوں کی زندگی میں علم، اخلاق، اور نیک عمل بنیادی ستون ہیں۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ نوجوان قوم کی ترقی اور فلاح کے سب سے بڑے ضامن ہیں۔ اگر نوجوان تعلیم، اخلاق، خدمت خلق اور روحانی تربیت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، تو وہ نہ صرف خود کامیاب ہوں گے بلکہ ایک روشن، مضبوط اور پرامن معاشرہ بھی قائم کر سکیں گے۔ نوجوانوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے وقت، توانائی اور صلاحیتوں کو مثبت سمت میں لگائیں اور اپنی زندگی کو مقصدیت اور اخلاقی معیار کے ساتھ گزاریں۔
یوسف صدیقی







