- Advertisement -

Phoonk Diya Bijlii Ny

An Urdu Ghazal By Qamar Jalalabadi

پھونک دیا بجلی نے گلشن

دیکھ لیا انجام نشیمن

تیری نظر اور وہ رخِ روشن

ہوش میں آ دیوانہ مت بن

فکر مجھے آباد ہو گلشن

برق کی نظریں سوئے نشیمن

بعدِ فنا او عشق کے دشمن

تیری ٹھوکر میرا مدفن

باغ میں کوئی کیسے بچائے

لاکھ بلائیں ایک نشیمن

نا سمجھی کانٹوں کی دیکھی

چھوڑ دیا گلچیں کا دامن

قمر جلال آبادی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Urdu nazam by Faisal Ajmi