آپ کا سلاماردو شاعریاردو نظمگلناز کوثر

تپش

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

تپش ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے

رگوں میں لہو کی بلاخیز رفتار کیسے سنبھالے

بھلا ایسی مشکل گھڑی کون ٹالے

بہت تیز جلتی ہوئی ایک ساعت

مری سانس جُھلسا رہی ہے

کٹیلی گھڑی شام سے

بھولے بسرے زمانوں کا اندھا بدن

میرے سینے پہ دھرتی چلی جا رہی ہے

مرا جسم بے معنی حرفوں تلے

پگھلے لاوے بھرا ایک پتھر

مسلسل مری جان دہکا رہا ہے

مرا دل مگر کن زمانوں کی

ٹھنڈک کی جانب

کھنچا جا رہا ہے

سپیدی بھری، آخری، نرم ٹھنڈک

اُدھر ایک کونے میں چکرا رہی ہے

تپش ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے

گلناز کوثر

گلناز کوثر

اردو نظم میں ایک اور نام گلناز کوثر کا بھی ہے جنہوں نے نظم کے ذریعے فطرت اور انسان کے باطن کو ہم آہنگ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ گلناز کوثر کا تعلق لاہور سے ہے تاہم پچھلے کچھ برس سے وہ برطانیہ میں مقیم ہیں، انہوں نے اردو اور انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ ایل ایل بی کی تعلیم بھی حاصل کی، البتہ وکیل کے طور پر پریکٹس کبھی نہیں کی۔ وہ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے ریسرچ اینڈ پبلیکیشن ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ رہیں، علاوہ ازیں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے عالمی ادب بھی پڑھایا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ دو ہزار بارہ میں ’’خواب کی ہتھیلی پر‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button