- Advertisement -

یاد نہ آؤ صبح و شام

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

یاد نہ آؤ صبح و شام
اور بھی ہیں دنیا کے کام

ایسی پیاس کا کیا ہو گا
جب بھی دیکھو تشنہ کام

کوئی تیری بات کرے
ہم پر آتا ہے الزام

کتنے فسانوں کا عنواں
میری نظریں تیرا بام

چپکے چپکے دل سے گزر
دیکھ نہ لے دور ایام

اتنا جرم نہ تھا باقیؔ
جتنے ہوئے ہیں ہم بدنام

باقی صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
باقی صدیقی کی ایک اردو غزل