دنیا تیزی سے ڈیجیٹل عہد کی طرف بڑھ رہی ہے۔ آج کی جنگیں صرف سرحدوں، ٹینکوں اور گولہ بارود تک محدود نہیں رہیں بلکہ یہ جنگ اب کمپیوٹر کی سکرینوں، ڈیجیٹل نیٹ ورکس اور سائبر اسپیس میں بھی لڑی جا رہی ہے۔ اسے نئی صدی کی نئی جنگ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے جہاں ایک طرف روایتی سکیورٹی چیلنجز ہیں، وہاں سائبر سکیورٹی ایک نہایت اہم محاذ کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
پاکستان کے ریاستی ادارے اور پالیسی ساز اب اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ سائبر حملے ملکی معیشت، دفاع، سفارتکاری اور سماجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ بینکنگ سسٹم، حساس معلومات، پاور گرڈ، ایئر ٹریفک کنٹرول اور سرکاری ریکارڈ—یہ سب دشمن کی دسترس میں ہیں اگر سائبر دفاع کمزور ہوا۔ چند سالوں میں کئی ایسے واقعات پیش آئے جب مختلف سرکاری ویب سائٹس کو ہیک کر کے قومی وقار کو نقصان پہنچایا گیا۔ یہی نہیں، جعلی سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے عوامی رائے کو گمراہ کرنے اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوششیں کی گئیں۔
حکومت پاکستان نے اس بڑھتے ہوئے خطرے کو سامنے رکھتے ہوئے سائبر سکیورٹی پالیسی تشکیل دی ہے۔ نیشنل سائبر سکیورٹی پالیسی 2021 کو ایک اہم قدم قرار دیا جا سکتا ہے جس کا مقصد ایک ایسا محفوظ سائبر ماحول تشکیل دینا ہے جہاں نہ صرف قومی ادارے بلکہ عام شہری بھی ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔ پاکستان نے حالیہ برسوں میں نیشنل ریپانس سینٹر فار سائبر کرائم کے ذریعے ہیکنگ، فراڈ، بلیک میلنگ اور دیگر جرائم کے خلاف کارروائیاں تیز کی ہیں۔ اس کے علاوہ، سرکاری سطح پر سکیورٹی آڈیٹس اور ڈیجیٹل آگاہی پروگرام بھی چلائے جا رہے ہیں تاکہ ادارے اپنی سائبر دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکیں۔ تاہم، یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ اب بھی ہمارے اقدامات دشمن ممالک کی صلاحیتوں کے مقابلے میں ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔
اس ضمن میں بھارت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت خطے میں سائبر ٹیکنالوجی میں تیزی سے سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس کے کئی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے منظم انداز میں سائبر جنگی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کے خلاف بھارت کی آن لائن مہمات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ مختلف مواقع پر بھارتی ہیکرز نے حساس سرکاری ویب سائٹس اور اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ بھارتی سوشل میڈیا سیل مسلسل پاکستان کے اداروں کو بدنام کرنے اور عوام میں کنفیوژن پھیلانے میں سرگرم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اپنی سائبر حکمت عملی کو دفاعی کے ساتھ ساتھ جارحانہ سطح پر بھی ترتیب دینا ہوگا تاکہ دشمن کے عزائم کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔
ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان میں عام عوام ابھی تک سائبر سکیورٹی کی اہمیت کو پوری طرح نہیں سمجھتے۔ لوگ اپنی ذاتی معلومات، بینک اکاؤنٹس اور سوشل میڈیا کو محفوظ بنانے میں کوتاہی کرتے ہیں جو دشمن کے لیے ایک کمزور ترین نکتہ بن جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت عوامی سطح پر آگاہی مہمات چلائے اور تعلیمی اداروں میں سائبر سکیورٹی کو بطور مضمون شامل کرے۔ نوجوانوں کو اس شعبے میں ٹریننگ فراہم کی جائے تاکہ پاکستان میں اپنی ایک مضبوط سائبر فورس تیار ہو سکے۔
نتیجہ یہی ہے کہ مستقبل کی جنگیں گولیوں سے زیادہ "ڈیٹا” سے لڑی جائیں گی۔ پاکستان کو اس حقیقت کو سنجیدگی سے سمجھنا ہوگا۔ صرف پالیسی بنانا کافی نہیں، اس پر عملدرآمد، فنڈنگ، ماہرین کی تیاری اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بھارت کی طرف سے بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنائے۔ کیونکہ اگر آنے والے وقت میں کوئی محاذ سب سے زیادہ اہم ہوگا تو وہ سائبر اسپیس ہی ہوگا، اور جو اس میدان میں پیچھے رہ گیا وہ اپنی بقا کی جنگ بھی ہار سکتا ہے۔
یوسف صدیقی







