آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرعامر صدیقی

کارنس

عامر صدیقی کا ایک اردو افسانہ

’’میں اسے گڑیا سے کھیلنے نہیں دوں گی۔ ‘‘
کمرے کے سناٹے کو چیرتی، تین سایوں میں سے ایک کی سرگوشی ابھری۔۔ ۔۔ ۔۔ اور دلوں میں اتر گئی۔۔ ۔۔
…سنگدلی، سفاکیت، پختہ ارادہ
… تذبذب، نیم دلی، پس و پیش
… مظلومیت، بے بسی، تاریکی
’’چوں چوں چوں ‘‘
’’اس کارنس کو صاف کرو۔۔ ۔۔ سارے گھر کو بھنکا دیا ہے۔ جہیز میں اور تو کچھ لائی نہیں کلموہی، سوائے ان منحوس پرندوں کے۔۔ ۔ ‘‘
… تہمت، بہتان، اتہام
… تردد، نیم رضامندی، فرمانبرداری
… نصیب، قسمت،ا ٓنسو
’’چوں چوں ‘‘
’’بس میں نے کہہ دیا، اس گھر میں گڑیا نہیں آنے دوں گی۔۔ ۔۔ ‘‘
’’میں بھی۔۔ ۔۔ ۔۔ ‘‘
’’میں گڑیا سے ہی کھیلوں گی۔۔ ۔۔ ‘‘
’’چوں چوں چوں ‘‘
’’کارنس سے گند ہٹاؤ ابھی۔۔ ۔۔ ۔ ‘‘
… بدبو، تعفن، سرانڈ
… قصد، عزم، کار روائی
… چیخیں، سسکیاں، کراہیں
’’چیں چیں چیں ‘‘
’’چیں چیں چیں ‘‘
خون، سفیدی، زردی
زردی، سفیدی، خون

عامر صدیقی

عامر صدیقی

لکھاری،ترجمہ نگار،افسانہ نگار،محقق۔۔۔ / مائکرو فکشنسٹ / مترجم/شاعر۔ پیدائش ۲۰ نومبر ۱۹۷۱ء بمقام سکھر ، سندھ۔تعلیمی قابلیت ماسٹر، ابتدائی تعلیم سینٹ سیوئر سکھر،بعد ازاں کراچی سے حاصل کی، ادبی سفر کا آغاز ۱۹۹۲ ء ؁ میں اپنے ہی جاری کردہ رسالے سے کیا۔ ہندوپاک کے بیشتر رسائل میں تخلیقات کی اشاعت۔ آپ کا افسانوی مجموعہ اور شعری مجموعہ زیر ترتیب ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button