- Advertisement -

بائیسویں صلیب

پروین شاکر کی ایک اردو نظم

بائیسویں صلیب

صبح کے وقت ، اذاں سے پہلے
اب سے بائیس برس قبل اُدھر
عمر میں پہلی دفعہ روئی تھی میں
کر ب میں ڈوبی ہُوئی چیخ کو سُن کر مری ماں ہنس دی تھی
مری آواز نے اُس کو شاید
اُس کے ہونے کا یقیں بخشا تھا
دُکھ کے اک لمبے سفر اور اذیّت کی کئی راتیں بسر کرنے پر
اُس نے تخلیق کیا تھا مجھ کو
میری تخلیق کے بعد اُس نے نئی زندگی پائی تھی جسے
آنسوؤں نے مرے بپتسمہ دیا!
ہر نئے سال کے چوبیس نومبر کی سحر
دُکھ کا اِک رنگ نیا لے کے مرے گھر اُتری
اور میں ہر رنگ کے شایان سواگت کے لیے
نذر کرتی رہی
کیا کیا تحفے!
کبھی آنگن کی ہر ی بیلوں کی ٹھنڈی چھایا
کبھی دیوار پہ اُگتے ہُوئے پھُولوں کا بنفشی سایا
کبھی آنکھوں کا کوئی طفلکِ معصوم
کبھی خوابوں کا کوئی شہزادہ کہ تھا قاف کا رہنے والا
کبھی نیندوں کے مسلسل کئی موسم
تو کبھی
جاگتے رہنے کی بے انت رُتیں !
(رس بھیگی ہُوئی برسات کی کاجل راتیں
چاندنی پی کے مچلتی ہُوئی پاگل راتیں !)
وقت نے مجھ سے کئی دان لیے
اُس کی بانہیں ، مری مضبوط پناہیں لے لیں
مجھ تک آتی ہُوئی اس سوچ کی راہیں لے لیں
حد تو یہ ہے کہ وہ بے فیض نگاہیں لے لیں
رنگ تو رنگ تھے ، خوشبوئے حنا تک لے لی
سایہ ابر کا کیا ذکر ، ردا تک لے لی
کانپتے ہونٹوں سے موہوم دُعا تک لے لی
ہر نئے سال کی اِک تازہ صلیب
میرے بے رنگ دریچوں میں گڑی
قرضِ زیبائی طلب کرتی رہی
اور میں تقدیر کی مشاطہ مجبور کی مانند ادھر
اپنے خوابوں سے لہو لے لے کر
دستِ قاتل کی حنا بندی میں مصروف رہی___
اور یہاں تک___کہ صلیبیں مری قامت سے بڑی ہونے لگیں !
ہاں کبھی نرم ہَوا نے بھی دریچوں پہ مرے ، دستک دی
اور خوشبو نے مرے کان میں سرگوشی کی
رنگ نے کھیل رچانے کو کہا بھی،لیکن
میرے اندر کی یہ تنہا لڑکی
رنگ و خوشبو کی سکھی نہ بن سکی
ہر نئی سالگرہ کی شمعیں
میرے ہونٹوں کی بجائے
شام کی سَرد ہَوا نے گل کیں
اور میں جاتی ہُوئی رُت کے شجر کی مانند
تنِ تنہا و تہی دست کھڑی
اپنے ویران کواڑوں سے ٹکائے سرکو
خود کو تقسیم کے نا دیدہ عمل میں سے گُزرتے ہُوئے بس دیکھا کی !
آج اکیسویں صلیبوں کو لہو دے کے خیال آتا ہے
اپنے بائیسویں مہمان کی کِس طرح پذیرائی کروں
آج تو آنکھ میں آنسو بھی نہیں !
ماں کی خاموش نگاہیں
مرے اندر کے شجر میں کسی کونپل کی مہک ڈھونڈتی ہیں
اپنے ہونے سے مرے ہونے کی مربوط حقیقت کا سفر چاہتی ہیں
خالی سیپی سے گُہر مانگتی ہیں
میں تو موتی کے لیے گہرے سمندر میں اُترنے کو بھی راضی ہوں __مگر
ایسی برسات کہاں سے لاؤں
جو مری رُوح کو بپتسمہ دے

پروین شاکر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
پروین شاکر کی ایک اردو نظم