- Advertisement -

پچھلی رُت کے شوخ زمانے یاد آئے

ناہید ورک کی اردو غزل

پچھلی رُت کے شوخ زمانے یاد آئے
دل میں چبھتے خار سہانے یاد آئے
آج پھر ہم کو ترا ملنا یاد آیا
آج پھر کیا کیا نہ فسانے یاد آئے
شوخ ہواؤں کے آنچل میں تھم تھم کر
شام سے ہی درد پرانے یاد آئے
بات چھڑی جب مے خانے کی محفل میں
اُن کی آنکھوں کے پیمانے یاد آئے
ایک تیرے نہ ہونے سے اس وقت ہم کو
نجانے کتنے زخم پُرانے یاد آئے
برکھا رُت میں پچھلے پہر ناہید تجھے
کس کے بھولے لہجے سہانے یاد آئے

ناہید ورک

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ناہید ورک کی اردو غزل