آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

نقرئی لومڑی

سیّد محمد زاہد کا ایک اردو افسانہ

”کیا عجب عنوان ہے! بڑی عمر کی عورت اپنی اپیل کھو نہیں دیتی؛ 71 سالہ زینت امان نوجوانوں میں کیوں مقبول ہو رہی ہے؟“

”نقرئی لومڑی Silver Vixen اپنے چاندی کے بالوں کی جھالر لٹکائے اس عمر میں جب انسٹاگرام پر انٹری مارتی ہے تو نوجوان دیوانے ہو جاتے ہیں۔“

وہ دونوں فروری کی روپہلی دھوپ میں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔ گل و ریحان کا موسم شروع ہو رہا تھا۔ وہ موسم جس میں پرندے جوڑے بناتے ہیں۔ موسم بہار کا تمازت سے بھرا سورج گرم کپڑے اتارنے پر مجبور کر رہا تھا۔ ماتھے سے عرق بہہ کر آنکھوں کی جھریوں سے بھٹکتے بھٹکتے سن رسیدہ رخساروں پر پہنچ کر انہیں چمکا رہا تھا۔ سردی کم ہو گئی تھی لیکن سرد راتوں میں بڑھکنے والی سینے کی حدت بڑھتی جا رہی تھی۔ پروا اس کو کم کرنے کی کوشش کرتی تھی لیکن اس کے مقدر میں بھی ناکامی ہی لکھی تھی۔

”زینت امان ہمارے ہیرو کی ہیروئین۔ وہ بوڑھا ہوا نہ ہیروئین۔ حسن ہیرو کا ماند پڑا، نہ اس کا ۔“

”مرد کو چھوڑو اس کی تو کمر دہری ہو جاتی ہے۔ عورت جوں جوں عمر کی بھٹی میں پکتی ہے اس کی قسمت کا ستارہ مزید چمکتا ہے۔ اس کی داستانیں اور بھی مزیدار ہو جاتی ہیں۔“

”تمہارے پاس بہت سی کہانیاں ہوں گی؟
”شو بز شعبہ ہی ایسا ہے جس میں روز کہانیاں بنتی ہیں۔“
”شکاری مرد بھاگتے پھرتے ہیں اور عورتیں؟“

”نہیں نہیں! مرد ہمیشہ خود کو شکاری سمجھتا ہے، اصل میں وہ شکار ہوتا ہے۔ اصل شکاری عورت ہی ہوتی ہے۔ اور چن چن کر نشانے لگاتی ہے۔“

”ان تیروں سے کوئی بچ بھی جاتا ہو گا۔“

”کوئی مرد ایسا نہیں جسے گانٹھا نہ جا سکے۔ یہ تو خود جال میں پھنستا ہے۔ جسم کے جال میں۔ وہ سمجھتا ہے کہ اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے عورت اس نے پسند کی ہے۔ بے وقوف!“

”بالکل صحیح کہا۔ انتخاب تو ہمیشہ سے عورت کا حق رہا ہے۔ وہ اپنے قرب سے کسے نوازتی ہے اور کسے دھتکار دیتی ہے، یہ اس کا فیصلہ ہوتا ہے۔

ہر عورت کا اپنا۔ ”
”ہاں! پتلی ہو یا موٹی، جوان ہو یا بوڑھی۔ بس جال بچھانا آتا ہو، وہ خود شکار ہونے آ جاتا ہے۔

موٹی عورت کے دام میں مرد ایسے آتا ہے جیسے کچھوے کے منہ میں مچھلی۔ سلم سمارٹ عورت چاہے اس کا چہرہ جھریوں بھرا ہو، وہ مچھلی کی طرح لپکتا ہے کہ اس کیچوے کو ہڑپ کر جائے اور کنڈی اپنے حلق میں پھنسا لیتا ہے۔ ”

”کیا ہر مرد زیر دام آ جاتا ہے؟ میرا خیال ہے کہ کچھ مرد زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور قابو میں نہیں آتے۔“
”مرد تین وجوہات سے انکار کرتا ہے۔
کسی دوسری عورت سے سچا عشق۔ ”
تمہیں لگتا ہے کہ سچا عشق نام کی کوئی چیز ہوتی ہے؟ ”

”ہوتی تو ہے! لیکن تمہاری بات میں جو حکمت پو شیدہ ہے ؛ جو استفہامیہ شک موجود ہے میں اس سے متفق ہوں۔ لوگ دعوٰی کرتے ہیں لیکن مجھے بھی کوئی مرد ایسا نہیں ملا جسے سچے عشق نے روکا ہو۔

ہاں! کچھ محنت زیادہ کرنا پڑتی ہے۔ ”
”دوسری وجہ کیا ہے؟“

”مرد کی بزدلی۔ بزدل مرد اکثر اکیلی اور کمزور عورت دیکھ کر آگے بڑھنے کی ہمت کرتے ہیں۔ اگر انہیں ذرا سا بھی شائبہ ہو جائے کہ عورت بھی ان میں دلچسپی لے رہی ہے تو ان پر خوف چھا جاتا ہے۔ جونہی ہم ملاقات کی کوئی سبیل نکالنے کا اشارہ دیتے ہیں تو ہماری پیش دستی ان کو مخمصے میں ڈال دیتی ہے۔ ان کا خوف بڑھ جاتا ہے۔ یہ ڈر پہلے بوسے پر ہی ان پر ایسا دھاوا کرتا ہے کہ وہ خواہش اور خوف کی جنگ میں ہتھیار ڈال کر بھاگ اٹھتے ہیں۔

ایسے بزدل اپنی شکست کو چھپانے کے لیے پارسا بن جاتے ہیں اور تسبیح ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں۔ ”
”تیسری وجہ؟“

”کیا بتاؤں؟ یا کن الفاظ میں بتاؤں؟ وہ مرد جو نسوانی ہیجان کو انجام سے ہم کنار کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ وہ عورتوں سے دور بھاگتے ہیں۔

اس قسم کے لوگ بہت زیادہ ہوتے ہیں، بہت ہی زیادہ۔ ”
”اس عمر میں بھی تم کمال کرتی ہوگی!“

”ہاں، ابھی کل کی ہی بات ہے، وہ نیا ہیرو جس کے ساتھ میں ماں کا کردار کر رہی ہوں، میرے پیچھے گھر بھاگا آیا۔

میرا بوڑھا دل اس وقت بھی تیزی سے دھڑکا تھا جب کل والے سین میں اسے گلے سے لگا یا۔ اس کے کانوں نے آواز سن لی تھی: دل کے اس مدور سر پوش کے اوپر سے، جس کے اوپر سر رکھتے ہی تمام مرد سرنگوں ہو جاتے ہیں۔

میں تو سب جانتی تھی۔ بس خاموشی سے اس کی حرکات کو بھڑکاتی رہی۔ وہ الجھتا جا رہا تھا۔

میرے سامنے بیٹھا اپنی چھوٹی چھوٹی مونچھوں کو تاؤ دیتا رہا۔ ادھر سے تھک جاتا تو سر کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگتا۔

کچھ دیر بعد میں نے کہا کہ میرے بیٹے کے آفس کا وقت ختم ہونے والا ہے وہ کسی بھی لمحے آ سکتا ہے اس لیے تم جاؤ۔ میں بھی اٹھ گئی اور اس کے سامنے بوتام کھولتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چل پڑی۔

مجھے پکا یقین تھا کہ وہ میرے پیچھے ہی چلا آئے گا۔
میں بیڈ روم میں پہنچی تھی کہ اس نے مجھے پیچھے سے پکڑ لیا۔
میں کسمسائی اور کہا کہ بیٹا آ جائے گا۔
وہ بزدل نہیں، ہمارا ہیرو تھا۔ کہنے لگا،
’وہ کھیل جس میں خطرہ نہ ہو پر لطف نہیں ہوتا۔‘

کمر میں ہاتھ ڈال کر وہ مجھے اسی بیڈ تک لے آیا جس پر میں نے زندگی کے بہترین اور پر مسرت اوقات بسر کیے ہیں۔ ویسے بھی بیڈ روم اور اس میں پڑی ہر چیز خصوصی طور پر بستر کی نرم و نازک چادریں اور تکیے ہماری دنیاوی کائنات میں سب سے زیادہ فرحت بخش اور نشاط انگیز چیزیں ہیں۔

وہ بھٹکتا رہا
اور
میں! میں تو الجھتی ہی نہیں۔
وہ چلا گیا۔

پھر میں نے بھی اپنے برہنہ بدن اور ٹوٹتے ہوئے جسم کو اپنے نرم و ملائم بستر کی آغوش میں دے دیا تاکہ ایک اور تازہ زندگی حاصل کر سکوں۔ ”

”اس عمر میں تم کیسی خوبصورت زندگی گزار رہی ہو!
بھر پور زندگی۔ ”
”لیکن تم کیوں دلچسپی لے رہی ہو؟“

”بس زینت امان اور ہمارا ہیرو یاد آ رہے تھے : وہ دور بھی جب ہم کالج میں تھے، اس کی فلم قربانی چھپ کر وی سی آر پر دیکھی تھی۔

گرمیوں کے مہینے میں بند کمرے کے اندر۔ تمہیں یاد ہے اس وقت کمروں میں اے سی بھی نہیں ہوتے تھے۔ ہم پسینے سے شرابور ہو گئے تھے۔ اس کا ذکر سن کر آج بھی وہی گرمی یاد آتی ہے۔ ”

”تم تو آج بھی بھیگ گئی ہو۔“
”ہاں دھوپ کی حدت کافی بڑھ گئی ہے۔“
”دھوپ نہیں! یہ خمار ہے
کیونکہ ایک
جی سپاٹ کانوں میں بھی ہوتا ہے۔ ”
یہ سن کر وہ بھاگ اٹھی، سولہ سالہ لڑکی کی طرح۔

سید محمد زاہد

سید محمد زاہد

ڈاکٹر سید محمد زاہد اردو کالم نگار، بلاگر اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کا زیادہ تر کام موجودہ مسائل، مذہب، جنس اور طاقت کی سیاست پر مرکوز ہے۔ وہ ایک پریکٹس کرنے والے طبی ڈاکٹر بھی ہیں اور انہوں نے کئی این جی اوز کے ساتھ کام کیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button