آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکلیم باسط

بات کڑوی ہو تو پھر بات بدل دیتا ہے

کلیم باسط کی ایک اردو غزل

بات کڑوی ہو تو پھر بات بدل دیتا ہے
وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کا تقاضا کیا ہے

عین ممکن ہے سمندر کو مسخّر کر لوں
تین راتوں سے کوئی چاند نہیں ابھرا ہے

میں نے تصویر کے چہرے پہ سیاہی مل دی
جانتا تھا کہ وہ رنگوں کی زباں جانتا ہے

اپنے ڈھانچے کو میں خود توڑ کے پھر جوڑتا ہوں
اس طرح وقت بہت اچھا گزر جاتا ہے

ہائے افسوس ترے پاس کوئی خواب نہیں
اور اگر ہو بھی تو ہم اندھوں نے کیا کرنا ہے

کلیم باسط

post bar salamurdu

کلیم باسط

کلیم باسط سرگودھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button