زندگی اداس ہے کیسے خوش کریں اسے
آؤ چل کے دیکھ لیں
حال چال پوچھ لیں
زلف کو سنوار کر اس جبیں کو چوم لیں
اس کے پاس بیٹھ کر
ایسا کچھ کہیں کہ وہ روتے روتے ہنس پڑے
ابرِ غم چھٹے تو پھر
دھوپ سی وہ کھِل اٹھے
ڈاکٹر طارق قمر
زندگی اداس ہے کیسے خوش کریں اسے
آؤ چل کے دیکھ لیں
حال چال پوچھ لیں
زلف کو سنوار کر اس جبیں کو چوم لیں
اس کے پاس بیٹھ کر
ایسا کچھ کہیں کہ وہ روتے روتے ہنس پڑے
ابرِ غم چھٹے تو پھر
دھوپ سی وہ کھِل اٹھے
ڈاکٹر طارق قمر