اردو غزلیاتساحر لدھیانویشعر و شاعری

اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے

ساحرؔ لدھیانوی کی اردو غزل

اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے
آج تک سلگتے ہیں زخم رہگزاروں کے

خلوتوں کے شیدائی خلوتوں میں کھلتے ہیں
ہم سے پوچھ کر دیکھو، راز پردہ داروں کے

گیسوؤں کی چھاؤں میں، دل نواز چہرے ہیں
یا حسیں دھندلکوں میں، پھول ہیں بہاروں کے

پہلے ہنس کے ملتے ہیں، پھر نظر چراتے ہیں
آشنا صفت ہیں لوگ، اجنبی دیاروں کے

ہم نے صرف چاہا ہے ہم نے چھو کے دیکھے ہیں
پیرہن گھٹاؤں کے، جسم برق پاروں کے

شغلِ مے پرستی گو، جشن نامرادی تھا
یوں بھی کٹ گئے کچھ دن تیرے سوگواروں کے

ساحر لدھیانوی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button