ہر سُو دُھول اڑاتے رستے
جلتا سورج، قہر!
انجانے ان دیکھے چہرے
انجانا سا شہر
چلتے چلتے شام ہوئی
پھر رات کا پچھلا پہر
دور کہیں قدموں کی آہٹ
دل میں درد کی لہر
لمحہ لمحہ پھیلتا جائے
تنہائی کا زہر
وقت یہ گھاؤ بھر سکتا تھا
وقت گیا ہے ٹھہر!!
شہباز خواجہ








