- Advertisement -

جی رک گئے اے ہمدم دل خون ہو بھر آیا

میر تقی میر کی ایک غزل

جی رک گئے اے ہمدم دل خون ہو بھر آیا
اب ضبط کریں کب تک منھ تک تو جگر آیا

تھی چشم دم آخر وہ دیکھنے آوے گا
سو آنکھوں میں جی آیا پر وہ نہ نظر آیا

بے سدھ پڑے ہیں سارے سجادوں پہ اسلامی
دارو پیے وہ کافر کاہے کو ادھر آیا

ہر خستہ ترا خواہاں یک زخم دگر کا تھا
کی مشق ستم تونے پر خون نہ کر آیا

گل برگ ہی کچھ تنہا پانی نہیں خجلت سے
جنبش سے ترے لب کی یاقوت بھی تر آیا

بالفعل تو ہے قاصد محو اس خط و گیسو کا
ٹک چیتے تو ہم پوچھیں کیا لے کے خبر آیا

تابوت پہ بھی میرے پتھر پڑے لے جاتے
اس نخل میں ماتم کے کیا خوب ثمر آیا

ہے حق بہ طرف اس کے یوں جس کے گیا ہو تو
سج ایسی تری دیکھی ہم کو بھی خطر آیا

کیا کہیے کہ پتھر سے سر مارتے ہم گذرے
یوں اپنا زمانہ تو بن یار بسر آیا

صنعت گریاں ہم نے کیں سینکڑوں یاں لیکن
جس سے کبھو وہ ملتا ایسا نہ ہنر آیا

در ہی کے تئیں تکتے پتھراگئیں آنکھیں تو
وہ ظالم سنگیں دل کب میر کے گھر آیا

میر تقی میر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
میر تقی میر کی ایک غزل