آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمیثم علی آغا

سینے پہ کب سے ہاتھ ہے اور ہٹ نہیں رہا

میثم علی آغا کی ایک اردو غزل

سینے پہ کب سے ہاتھ ہے اور ہٹ نہیں رہا
میں ہجر کاٹتا ہوں مگر کٹ نہیں رہا

بالوں میں آ گئی ہے سفیدی اور ایک تُو
ایسا بسا ہے دل میں ذرا گھٹ نہیں رہا

اتنا بھی میری ذات پہ تُو بد گماں نہ ہو
میں پڑھ رہا ہوں یار تُجھے رٹ نہیں رہا

یہ جسم ہو رہا ہے ناں تقسیم، ہونے دو
میں ذہنی طور پر تو کہیں بٹ نہیں رہا

تُو میرے ساتھ رہ کے بھی اُکتا ہی جائے گا
میں خُود بھی اپنے ساتھ کبھی جھٹ نہیں رہا

پانی گھروں میں آ گیا دل کو خوشی ہوئی
اور دُکھ بھی ہے کہ گاوں میں پنگھٹ نہیں رہا

حالات نے فقط نہیں چھینی مِری ہنسی
تُو بھی تو یار پہلے سا نٹ کھٹ نہیں رہا

تسلیم کر چکا ہوں میں اپنی شکست کو
اب دل میں خواہشات کا جھرمٹ نہیں رہا

پتھر کا ہو گیا ہوں میں میثم علی، کہ وہ
جا بھی چُکا ہے اور یہ دل پھٹ نہیں رہا

میثم علی آغا

post bar salamurdu

میثم علی آغا

نام : میثم علی آغا - بنیادی طور پر سیالکوٹ کی تحصیل پسرور سے تعلق ہے مگر پچھلے دس سال سے اٹلی میں مستقل مقیم ہوں - کتابیں پکھی واس (پنجابی مجموعہ) میں تجھ کو یاد آؤں گا (اردو شعری مجموعہ) ابھی موسم سسکتے ہیں (اردو شعری مجموعہ) ارتجال (اردو شعری مجموعہ) در بدری: پاکستان سے اٹلی تک پیدل سفر کی کہانی (زیرِ طباعت) - اٹالین زبان میں نظموں کا مجموعہ چھپ چکا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button