- Advertisement -

کھو گئی ان کے تصور میں کہیں

ایک اردو غزل از طلعت سروہا

کھو گئی ان کے تصور میں کہیں

ہو گئے شعر مکمل کتنے

کتنی سنجیدہ ہیں نظریں ان کی

اور الفاظ ہیں چنچل کتنے

آج بھی رہ گئی دھرتی پیاسی

آج بھی چھائے تھے بادل کتنے

اب تو خود پہ بھی اعتبار نہیں

دھوکے کھائے ہیں مسلسل کتنے

تیری آواز میں جادو ایسا

سن کے ہو جاتے ہیں پاگل کتنے

ایک میرا دل ہی نہی ھے طلعت

جل گئے بانس کےجنگل کتنے

طلعت سروہا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
حسیب بشر کی ایک غزل