- Advertisement -

تری نظر کے اشاروں کو ساتھ لائے گی

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

تری نظر کے اشاروں کو ساتھ لائے گی
امید اپنے سہاروں کو ساتھ لائے گی

وہی نظر مرے رستے میں بن گئی دیوار
گماں تھا جس پہ نظاروں کو ساتھ لائے گی

تری نظر ہی کا اب انتظار لازم ہے
تری نظر ہی بہاروں کو ساتھ لائے گی

بہت نحیف سہی موج زندگی پھر بھی
مچل گئی تو کناروں کو ساتھ لائے گی

تو آنے والے زمانے کا غم نہ کر باقیؔ
کہ رات اپنے ستاروں کو ساتھ لائے گی

باقی صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
شہزاد نیّرؔ کی کتاب پی ڈی ایف میں پڑھیں