آپ کا سلاماردو غزلیاتایمان ندیم ملکشعر و شاعری

جو سب عروجِ شوق کے تھے

ایک غزل از ایمان ندیم ملک

جو سب عروجِ شوق کے تھے سلسلے کدھر گئے
وہ مستیاں کدھر گئیں ، وہ قہقہے کدھر گئے

ہمیں تو عہدِ ہجر کا نشان تک نہیں ملا
وہ بے رخی ، وہ جاں کنی ، وہ فاصلے کدھر گئے

یہ اشک کب رہا ہوۓ درونِ جاں کی قید سے
دریدہ دل! چٹان سے وہ حوصلے کدھر گئے

سبھی زبانیں کس لیے ہمارے حق میں ہو گئیں؟
ہمارے بارے جن کو تھے مغالطے ، کدھر گئے

کس اجنبی ڈگر پہ چل پڑی ہے عمرِ رائیگاں
جو تیرے گرد گھومتے تھے راستے کدھر گئے

بدل گئے ہیں حسن و عشق کے پرانے قاعدے
دل و نظر کے باحیا سے ضابطے کدھر گئے

کہاں سے اٹھ کے آگئے ہیں نفرتوں کے کارواں
مراسموں کے الفتوں کے قافلے کدھر گئے

دلوں سے کس لیے یقینِ حق اٹھا لیا گیا
وہ رب سے تھے جو ایک نس پہ رابطے کدھر گئے

ایمان ندیم ملک

post bar salamurdu

ایمان ندیم ملک

السلام و علیکم! میرا نام ایمان ندیم ملک ہےاور میں سرگودھا سے تعلق رکھتی ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button