- Advertisement -

یہ دستور ہے دل کو یہ سمجھانا ھے

عمران ڈین کی ایک اردو غزل

یہ دستور ہے دل کو یہ سمجھانا ھے
بابل کا گھر چھوڑ پیا گھر جانا ھے

بدلیں گے کچھ چہرے’ رشتے کچھ وعدے
بدلے گا اب جو بھی ساتھ پرانا ھے

بابا دیر سے آنے۔۔ تجھ سے نہ بولوں
اب نہ جھوٹا رونا اور دھمکانا ہے

دن سہانے تھے بابا کے آنگن میں
اس لاڈو کا اب سسرال ٹھکانہ ہے

بابا’ بھائی’ ماں سبھی رشتے ناطے
گھر پیا کے سب کا مان بڑھانا ہے

عمران ڈین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
عمران ڈین کی ایک اردو غزل