- Advertisement -

کوئی تو بات ہے ایسی جو اب نئی ہوئی ہے

ایک اردو غزل از صغیر احمد صغیر

کوئی تو بات ہے ایسی جو اب نئی ہوئی ہے
یہ آج کل جو مری خود سے ہی بنی ہوئی ہے

میں مانتا ہوں کہ تجھ سے میں تنگ آ گیا تھا
یہ کیا ہؤا ہے مجھے اب تری پڑی ہوئی ہے

میں اپنے آپ کو اس میں تلاش کر رہا ہوں
یہ میرے سامنے تصویر جو لگی ہوئی ہے

میں اس کی آنکھوں میں بس ایک بار دیکھ سکا
ادھوری بات تھی اور وہ بھی سَر سری ہوئی ہے

سب اندھے بہرے اسے دیکھنے چلے آئے
وہ ایک لڑکی جو اندر سے اب مری ہوئی ہے

مری خموشی کا مطلب غلط لیا گیا ہے
سمجھ رہے ہیں طبیعت میں بہتری ہوئی ہے

یہ لوگ خود کو سمجھتے تھے آسماں جیسا
اب آسماں کی طرف کیوں نظر لگی ہوئی ہے؟

وہ بدتمیز حقیقت میں بدتمیز نہیں
میں جانتا ہوں مرے ساتھ ہی بڑی ہوئی ہے

یہ جنگ لگتا ہے دونوں ہی ہار جائیں گے
ہماری جھوٹی اناؤں میں جو ٹھنی ہوئی ہے

کوئی بھی بات نئی ہو نئی نہیں لگتی
صغیر لگتا ہے پہلے کبھی سنی ہوئی ہے

صغیر احمد صغیر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از صغیر احمد صغیر