آپ کا سلاماردو غزلیاتاویس خالدشعر و شاعری

اس خاک کے پیکر کو انسان کا رتبہ دو

اویس خالد کی ایک غزل

اس خاک کے پیکر کو انسان کا رتبہ دو
کردار کے منبر سے احساس کا خطبہ دو

یہ دور حمیّت کے معیار سے عاری ہے
تلوار کو غیرت کی للکارکا جذبہ دو

جس راز پہ چل کر میں لاہوت میں جا پہنچوں
تقدیر کی چوکھٹ سے تدبیر وہ خفیہ دو

ابلیس کے نرغے میں جو نفس مقیّد ہے
اس نفس کے مارے کو اِعراض کا رستہ دو

تعمیر ہے گھر اپنا دعویٰ کے ستونوں پر
ان کھوکھلے نعروں کو کردار بھی عمدہ دو

اویس خالد

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button