- Advertisement -

مل کر بھی اگر پُرسشِ حالات نہ کرنا

خالد سجاد کی ایک اردو غزل

مل کر بھی اگر پُرسشِ حالات نہ کرنا
اچھا ہے یہی پھر تو ملاقات نہ کرنا

اس عشق کی آتش کے تسلسل میں مزہ ہے
رم جھم سے برستے رہو برسات نہ کرنا

دو چار ہی ملتے ہیں مقدر سے جہاں میں
یاروں سے مری جان کبھی ہاتھ نہ کرنا

اک اپنا سلیقہ ہے میاں جام و سبو کا
نشئے میں بھی توہینِ خرابات نہ کرنا

دل جن کے ملے ہوں وہ تکلم نہیں کرتے
تم مجھ سے ملو گے تو کوئی بات نہ کرنا

پردے سے زرِ حُسن کی سائل پہ نمائش
اس پہ یہ بخیلی بھی کہ خیرات نہ کرنا

جب مجھ کو زمیں چھوڑ کے جانا ہے تو خالد
پھر کیسے کہوں سیرِ سماوات نہ کرنا

خالد سجاد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
خالد سجاد کی ایک اردو غزل