اردو غزلیاتحسرت موہانیشعر و شاعری

بس کہ نکلی نہ کوئی جی کی ہوس

حسرت موہانی کی ایک اردو غزل

بس کہ نکلی نہ کوئی جی کی ہوس

اب ہوں میں اور بے دلی کی ہوس

کہ رہے دل نہ بے قراریِ دل

عاشقی ہو نہ عاشقی کی ہوس

وہ ستمگر بھی ہے عجیب کوئی

کیوں ہوئی دل کو پھر اسی کی ہوس

پھرتی رہتی ہے آدمی کو لئے

خوار دنیا میں آدمی کی ہوس

دونوں یکساں ہیں بے خودی میں ہمیں

فکرِ غم ہے نہ خمریِ کی ہوس

واقفِ لذّتِ جنوں جو ہوا

نہ رہی اس کو آگہی کی ہوس

ان کو دیکھا ہے جب سے گرمِ عتاب

آرزو کو ہے خود کشی کی ہوس

کر سکیں بھی تو ہم فقیر ترے

نہ کریں تاجِ خسرویِ کی ہوس

ہجرِ ساقی کے دور میں حسرت

اب نہ مے ہے نہ مے کشی کی ہوس

حسرت موہانی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button