آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفقیہ حیدر

میں خوش ہوا کہ بود میں رکھا گیا مجھے

فقیہ حیدر کی ایک اردو غزل

میں خوش ہوا کہ بود میں رکھا گیا مجھے
حالانکہ بس قیود میں رکھا گیا مجھے

خدشات کی صلیب پہ کھینچی گئی حیات
حالات کے جمود میں رکھا گیا مجھے

جس سمت بھی گیا میں اجل میرے ساتھ تھی
یعنی مری حدود میں رکھا گیا مجھے

برفاب خواب جب مری آنکھوں میں آ بسے
اک حشر کی نمود میں رکھا گیا مجھے

دنیا کو دیکھتا ہوں یوں حیرت سے روز و شب
جیسے ابھی وجود میں رکھا گیا مجھے

بے ساز گنگنایا گیا مجھ کو ہر گھڑی
بے تال ہی سرود میں رکھا گیا مجھے

تو کیا بقا فریب زدہ حرف ہے فقیہ
تو کیا فقط نبود میں رکھا گیا مجھے

فقیہہ حیدر

post bar salamurdu

فقیہ حیدر

حافظ آباد, پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button