آپ کا سلاماردو غزلیاتشاہ محمود جامؔیشعر و شاعری
تری عظمت ہے شاہانہ، تری فطرت فقیرانہ
شاہ محمود جامؔی کی ایک اردو غزل
تری عظمت ہے شاہانہ، تری فطرت فقیرانہ
تُو رہرو جادہِ الفت ، تُو سچائی کا دیوانہ
چراغِ نورِ توحیدی، تُو ہے اِک مردِ فرزانہ
تُو رہبر راہِ درویشی ، تُو سالارِ حکیمانہ
ترا فتراک دانائی ، تُو ہے نخچیرِ گمراہی
تُو صیّادِ خراباتی ، نگہ تیری عُقابانہ
نہیں اقبال و رومی کا کوئی ہمسر زمانے میں
کہ تُو ذوقِ فقیری میں یگانہ اور جداگانہ
تُو آفاقِ بصیرت پر ہے خورشیدِ درخشانی
کہ محور نورِ وحدانی تری سیمائے تابانہ
رموز و آگہی کا ہے خزینہ آدمِ خاکی
یہیں ہے تختِ ربانی یہیں دیدارِ جانانہ
اگر دہرائی جائے گی دگر تمثیلِ جانبازی
بچشمِ سر کروں گا میں ادا پھر حقِ پسرانہ
کمالِ اوج حاصل ہے تری شیریں بیانی کو
دلوں پر نقش کرتی ہے تری گفتارِ فرحانہ
صراطِ مستقیمانہ بجز مردِ قَلنّدَر نیست
دعائے در دلم جامؔی شَوَد نسبت عظیمانہ
شاہ محمود جامؔی
سیالکوٹ پاکستان








