- Advertisement -

تیرا وعدہ جھوٹا نکلا

طارق جاوید کی ایک اردو غزل

تیرا وعدہ جھوٹا نکلا
ہجر ہی آخر سچا نکلا

میرا آنا دل میں تیرے
تیز ہوا کا جھونکا نکلا

ہم نے خود کو برسوں دیکھا
صرف نظر کا دھوکہ نکلا

اندر کی خاموشی ٹوٹی
دل سے شور شرابہ نکلا

میں سمجھا تو دکھ بانٹے گا
تو بھی غم کا مارا نکلا

جس کے خوف سے بھاگ رہا تھا
وہ اپنا ہی سایہ نکلا

طارق جاوید

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
طارق جاوید کی ایک اردو غزل