- Advertisement -

ضد کا غلام

بینا خان کے ناول محبت سے محبت ہے سے اقتباس

نکاح میں ایک ہفتہ تھا اور وہ ثنا کے ساتھ شاپنگ پہ آئی ہوئی تھی کہ کسی نظر اس پہ پڑی وہ جو کوئی بھی تھا اس ملک کا نہیں تھا روشانے اسے بہت اچھی لگی۔
**************
نکاح کا دن بھی آپہنچا روشانے وائٹ کلر کی پاؤں کو چھوتی فراک میں اور بلڈ ریڈ کلر کے دوپٹے میں دلہن بنی بہت پیاری لگ رہی تھی وجدان بھی وائٹ کلر کے کرتے میں بہت ہینڈسم لگ رہا تھا نکاح بخیر و عافیت ہو گیا تھا وہ روشانے آفندی سے روشانے وجدان حیدر بن گئی تھی وجدان تو بہت بہت خوش تھا نکاح کے تین چار دن بعد وہ آفس جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی وہ بہت کنفیوز ہو رہی تھی آفس پہنچی تو وہاں آفس میمبرز نے اس کا پرتپاک استقبال کیا وہ بہت حیران تھی وہ اپنے آفس میں آئی تو تھوڑی دیر میں بعد وجدان نے اسے اپنے آفس روم میں بلایا دروازہ نوک کیا
” کم ان ” روشانے اندر آئی
” ویسے اب تمہیں نوک کرنے کی ضرورت تو نہیں ہے روشانے ” وہ یک دم بے تکلف ہوا
” جی۔۔۔ جی سر” وہ جھجکی
"ویلکم ٹو مائے سویٹ وائف”
” ویلکم کس لیے یہ میرا فرسٹ ڈے تو نہیں ہے” وہ نظریں جھکائے بولی
” روشانے آفندی کا فرسٹ ڈے نہیں ہے پر روشانے وجدان حیدر کا فرسٹ ڈے ضرور ہے” وہ پیار سے بولا
” آئیے۔۔۔” وہ اس کے سامنے آکے کھڑا ہو گیا وہ اس کے سامنے نظریں جھکائے کھڑی تھی چہرہ گلابی ہورہا تھا وہ بار بار انگلیاں مروڑ رہی تھی وہ مسکرایا اور اس کا ہاتھ تھاما اپنی جیب سے ایک ڈبی نکالی اس میں ایک ڈائمنڈ رنگ تھی وجدان نے وہ رنگ اس کے بائیں ہاتھ کی انگلی میں پہنا دی اور اس کے ہاتھ کو چوما۔ روشانے گھبرائی
” یہ تمہارے لیے” وجدان مسکرایا
” میں ۔۔۔ میں جاؤں؟؟؟ ” روشانے بولی
” اتنی جلدی۔۔۔۔۔۔۔ یہاں بیٹھو کچھ دیر۔۔۔ میرے ساتھ آؤ”
وہ اسے لے کر اپنی چئیر کی طرف گیا اور اسے اپنی چئیر پہ بٹھایا اور خود ذمین پہ اس کے پاس آکے بیٹھ گیا اور اس کے حنائی ہاتھ تھام کے بولا
” خواب لگتا ہے یہ سب مجھے یقین نہیں آرہا کہ تم میری ہو گئی ہو ” وہ اک جذب کے عالم میں بولا روشانے اسے دیکھنے لگی
” تمہیں پتا ہے مجھے تم سے پہلی نظر کی محبت ہوئی تھی اس وجدان کو جو لڑکیوں سے دور بھاگتا تھا تمہیں پتا ہے ائیر پورٹ پہ میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تمہیں یاد ہے تم مجھ سے ٹکرائیں تھیں ” روشانے کو یاد آیا وہ اپنی دوست کو چھوڑنے گئی تھی اور اس سے مل کے آرہی تھی کہ جب وہ کسی سے ٹکرائی تھی پر وہ تو بھول بھی گئی تھی
"اس دن تمہاری آنکھوں نے مجھے ڈسٹرب کرنا شروع کردیا تھا اور اسے اتفاق ہی کہہ لو کہ تم میرے آفس میں جاب کرنے آئیں اور اب تم میرے ساتھ ہمیشہ رہو گی ”
” یہ جگہ جہاں تم بیٹھی ہو یہ اب تمہاری ہے اور سامنے بیٹھا یہ شخص بھی اب تمہارا ہے روشانے ” وہ اس کے ہاتھ پہ زور دے کر بولا
وہ اٹھا تو روشانے بھی کھڑی ہو گئی ” آئی لو یو روشانے” وجدان نے کہتے اس کو اپنے ساتھ لگایا ” آئی لو یو ویری ویری مچ ” روشانے شرمائی ” اب جاؤں سر ”
وجدان کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ وہ یہ بولے گی اس نے اس کے چہرے کو دیکھا جو کے سرخ ہو رہا تھا وہ ہنسا ” جاؤ اور ہاں یہ سر سر بولنا چھوڑ دو یار ”
” پھر کیا بولوں ” روشانے معصومیت سے بولی
” تمہیں جو بھی بولنا ہے وہ بولو بٹ پلیز سر نہ بولنا ” وہ ہنسی ” اوکے سر ”
” اپسسسس۔۔۔۔۔ سوری” اس نے زبان دانتوں تلے دبائی وجدان ہنس دیا تو وہ بھی مسکرا دی۔
***********
” کیا چاہتے ہو تم رالف اب "جینی نے رالف سے غصے میں پوچھا
” میں روشنی سے ملنا چاہت ہوں”
” وااااٹ۔۔۔۔۔ اس کی زندگی آلریڈی تم برباد کر چکے ہو اب کیا چاہتے ہو ہاں ”
” پلیز جینی”
” تمہاری وجہ سے وہ دو سال سے یہ سزا بھگت رہی ہے صرف اور صرف تمہاری وجہ سے”
” جینی میں اس سے معافی مانگنا چاہتا ہوں ”
” جینی جینی” دوسری طرف سے کال کاٹ دی گئی تھی۔
شام میں وہ ثنا کے ساتھ پارک آئی ایک بینچ پہ بیٹھ کر وہ دونوں باتیں کرنے لگیں کہ ایک بال اڑتی ہوئی آکے ثنا کو لگی روشانے نے بال پھینکنے والے کو دیکھا وہ جو کوئی بھی تھا اس ملک کا نہیں تھا
” اندھے ہو دکھائی نہیں دیتا ”
روشانے غصے سے بولی وہ پرشوق نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
” آئیم سوری میم ان کو چوٹ تو نہیں آئی”
” میں ٹھیک ہوں اٹس اوکے” ثنا نے کہا
” بٹ آپ کی دوست کا موڈ خراب ہے ابھی بھی” وہ بات کو طول دینے کو بولا
” اکسکیوزمی مسٹر فری ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اینڈ اب آپ یہاں سے جا سکتے ہیں” روشانے نے لحاظ برائے طاق رکھ کے کہا
” روشانے اسٹاپ یار ” ثنا نے روشانے کو چپ ہونے کا کہا
” آپ یہاں کے تو نہیں لگتے” ثنا نے کہا
” یس میم میں یہاں کا نہیں بوسٹن سے آیا ہوں”
” اوہ اچھا اچھا سو کیسا لگا ہمارا ملک” ثنا فوراً خوشی سے بولی تو یوں بے تکلف ہونے پر روشانے نے اسے گھور کر دیکھا
” ملک بھی بہت خوبصورت ہے اور ملک کے لوگ بھی” اس نے روشانے کی طرف دیکھ کر کہا تو روشانے بولی
” تم نے اگر ان مسٹر کے ساتھ گپے مارنے ہیں تو مارو میں گھر جا رہی ہوں”
اور وہاں سے چلی گئی تو ثنا بھی اس کے پیچھے بھاگی پیچھے وہ لڑکا بہت دلچسپی سے روشانے کو جاتا دیکھ رہا تھا
” آئی لائک اٹ مجھے ایسی ہی لڑکیاں اچھی لگتی ہیں اب تو اس کے بارے میں سب کچھ پتا کرنا پڑے گا” وہ خود سے بولا۔
**********
سنڈے کی شام کو وجدان نے روشانے کو کال کی
” اسلام و علیکم”
” وعلیکم السلام بیوی کیسی ہو”
” ٹھیک ہوں آ۔۔۔آپ کیسے ہیں ”
” یہ تم اتنا جھجکتی کیوں ہو ہاں شوہر ہوں حق سے مخاطب کیا کرو”
” جی”
” کیا جی؟؟؟”
” کچھ نہیں” روشانے بولی
” اچھا سنو رات کو تم میرے ساتھ ڈنر پہ چل رہی ہو”
” میں ؟؟؟” روشانے حیرانی سے بولی
” نہیں تمہاری پڑوسن ” وجدان بولا تو وہ ہنس دی
” مجھے پتا ہے آپ مجھے بول رہے ہیں”
” بہت سمجھدار ہو تم تو” وجدان ہنسا
” آپ میرا مزاق اڑا رہے ہیں ” روشانے سریس ہو کے بولی
” میری یہ مجال بیوی کہ آپ کی مزاق اڑائے یہ ناچیز ” وجدان ایسے بولا تو ہنس دی
” اچھا تم ریڈی رہنا میں تمہیں پک کرلوں گا ”
"بٹ ماما بابا۔۔۔۔۔”
” میں ان سے خود بات کرلوں گا ” وجدان نے اس کی مشکل آسان۔کی
” اوکے تیار رہنا اور ہاں ریڈ کلر کا ڈریس پہننا میرا فیورٹ ہے ” وجدان نے فرمائش کی تو وہ جھینپی
” اوکے” وہ فون رکھنے لگی تو وہ پھر بولا
” سنو”
” آئی لو یو روشانے” روشانے شرمائی
” تھینک یو” اور فون رکھ دیا وجدان کتنی ہی دیر تک فون کو مسکراتے ہوئے دیکھتا رہا۔
***********
اس نے روشانے کے بارے میں ساری معلومات لے لی تھی اس کو پتا چلا کہ کچھ دن پہلے اس کا نکاح ہوا ہے تو پہلے تو وہ سیڈ ہوا پھر اس کے دل میں ایک خیال آیا آخر کو وہ اپنی ضد کا غلام تھا اور روشانے اس کی اب سب سے بڑی ضد بن چکی تھی اس نے کچھ سوچا اور اپنی پلاننگ پہ مسکرا دیا
” نکاح ہوا ہے تو کیا ہوا نکاح ٹوٹ بھی تو سکتا ہے” وہ خود سے بولا
*************
وجدان نے روشانے کے پیرنٹس سے بات کرلی تھی رات کو وجدان اسے لینے آیا ماما بابا سے ملا
” میں روشانے کو بلاتی ہوں ” تھوڑی دیر بعد ماما روشانے کو لے کر آئیں وجدان نے روشانے کو دیکھا وہ وجدان کو آج ساری خوبصورتیوں کو مات دیتی لگی ریڈ کلر کی فراک زیب تن کیے لمبے بالوں کو کھلا چھوڑے نازک سی جیولری اور ہلکے سے میکااپ نے اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیے تھے وجدان نے اپنی فیلنگز پہ کنٹرول کیا
” اچھا انکل آنٹی اب ہم چلتے ہیں ” وجدان بولا ور دونوں کو خدا حافظ کہہ کر وہ لوگ باہر آئے وجدان نے اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا وہ بیٹھی تو ڈرائیونگ سیٹ پہ آکے بیٹھا
” بہت خوبصورت لگ رہی ہو روشی” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا
” تھینک یو ” وہ جھینپی
” سوچ رہا ہوں کہ کچھ دن تک رخصتی کرواہی لوں تمہاری اور اپنے گھر لے ہی آؤں ” روشانے کو ڈھیروں شرم نے آگھیرا
” کیا بولتی ہو کروا لوں "وجدان نے چھیڑا
” نہیں ”
"کیوں ؟؟؟”
” ایسے ہی ”
” ایسے ہی کیوں ” وہ دوبدو پوچھے جا رہا تھا
” مجھے نہیں پتا ”
” کیوں نہیں پتا ”
” افففففف وجدان کتنے سوال کرتے ہیں آپ” وجدان نے جھٹکے سے سائڈ میں گاڑی روکی
” کیا ہوا ” روشانے حیران ہوئی
” پھر سے بولو”
” کیا”
” جو پہلے کہا”
"کیا کہا میں نے” وہ معصومیت سے بولی
” نام لو دوبارہ سے میرا”
” وجدان” روشانے مسکرا کے بولی تو وجدان نے بے اختیار اس کے کندھے پہ بازو حمائل کیا اور اسے خود سے قریب کیا
” وجدان آ۔۔۔آپ۔۔۔۔”
” ششش۔۔۔” اس نے اس کے ہونٹوں پہ اپنی انگلی رکھ کے اسے چپ کرایا اس وقت سڑک پہ ٹریفک کم تھی
” آج میں بہت خوش ہوں کیونکہ پہلی بار تم نے مجھے میرا نام لے کے مخاطب کیا ہے آج تمہاری محبت میرے دل میں اور بڑھ گئی ہے اب اور نہیں رہ سکتا میں تمہارے بغیر بات کرتا ہوں میں تمہاری رخصتی کی”
روشانے ایک دم دور ہوئی اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ” نہیں پلیز ابھی رخصتی نہیں ابھی تو نکاح ہوا ہے ہمارا ”
” سو یار بیوی ہو تم میری”
” جی وہ سب تو ٹھیک ہے پر پلیز ابھی نہیں ” وہ لجاجت سے بولی تو وہ ہنس دیا
” اوکے بابا اور کوئی حکم ”
” نہیں بس” وہ نظریں جھکائے مسکرا کر بولی۔
**********
ڈنر کے بعد اس نے روشانے کو گھر ڈراپ کیا اور خود بھی گھر آکر فریش ہوا فریش ہونے کے بعد وہ وہ تصویریں دیکھنے لگا جو اس نے اور روشانے نے ایک ساتھ بنائی تھیں وہ دیکھ کر مسکرا دیا وجدان نے سیل آف کرنے سے پہلے روشانے کو میسج کیا جو کہ روز سونے سے پہلے کرتا تھا اور بیڈ پر لیٹ گیا روشانے کو سوچتے سوچتے جانے کب اسے نیند آگئی اسے پتا نہ چلا۔
*************

بینا خان

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
بینا خان کے ناول محبت سے محبت ہے سے اقتباس