بدین میں رضا اللہ نظامانی کا قتل
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
بدین میں رضا اللہ نظامانی کا قتل: بھارت کی دہشت گردی
18 مئی 2025 کو بدین کے شہر ماتلی میں مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر، رضا اللہ نظامانی کو تین مسلح افراد نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لیے صدمے کا باعث بنا۔ سی ٹی ڈی سندھ کی تحقیقات کے مطابق، اس قتل میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کے ہینڈلر سنجے سنجیو کمار عرف "فوجی” کا براہ راست ہاتھ تھا۔ اس نے پاکستانی شہری سلمان کو بھاری رقم کے عوض ہائر کیا، جس نے حیدرآباد میں دیگر ساتھیوں سے ملاقات کے بعد ماتلی پہنچ کر واردات انجام دی۔ واقعے کے بعد سلمان کراچی ایئرپورٹ سے نیپال فرار ہو گیا۔ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور موبائل فون بھی برآمد ہوئے، جبکہ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس قتل کے لیے خطیر رقم خرچ کی گئی اور ایک علیحدگی پسند تنظیم کو بھی استعمال کیا گیا۔
رضا اللہ نظامانی مرکزی مسلم لیگ کے رہنما تھے، جو جماعت الدعوۃ کا سیاسی ونگ سمجھی جاتی ہے۔ جماعت الدعوۃ پاکستان میں ایک معروف مذہبی، تعلیمی اور فلاحی تنظیم ہے، جو تعلیمی اداروں، مدارس اور فلاحی منصوبوں کے ذریعے عوامی خدمات فراہم کرتی ہے۔ فی الحال، جماعت الدعوۃ پر دہشت گردی سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا اور نہ ہی یہ ادارہ کسی غیر قانونی یا مسلح کارروائی میں ملوث ہے۔ مرکزی مسلم لیگ اس تنظیم کی سیاسی نمائندگی کرتی ہے، اور رضا اللہ نظامانی اس ونگ کے ایک معتبر اور سرگرم رہنما تھے۔
یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت اپنی ناکامیوں اور کشمیری علاقے میں بدامنی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو چھپانے کے لیے پاکستان کے اندر دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ فلاحی اور تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے شہری کو دہشت گرد بنا کر قتل کرنا ایک انتہائی غیر انسانی اور ناقابل قبول عمل ہے۔ بھارت نے اس واردات کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ وہ اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے اور پاکستان میں خوف و دہشت پھیلانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ دبئی جیسے ممالک میں مقیم کچھ پاکستانی شہری بھی بھارتی خفیہ ایجنسی کے نیٹ ورک کا حصہ بن رہے ہیں۔ یہ لوگ، جو اپنے معاشی اور معاشرتی اعتبار سے مستحکم ہیں، نہ صرف اپنے ملک کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں بلکہ بھارت کی سازشوں میں سہولت فراہم کر کے ملکی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں، جو اس سازش کی پیچیدگی اور ملک دشمن سرگرمیوں کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
رضا اللہ نظامانی کا قتل ایک سنگین واقعہ ہے جو نہ صرف بھارت کی دہشت گردی کی نئی شکل کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کس طرح اپنے شہریوں، خاص طور پر فلاحی اور سماجی کام کرنے والوں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ ہمیں اپنے قومی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے محکموں کی مضبوطی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے وارداتوں کا فوری سدباب ممکن ہو سکے۔
اس واقعے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت نے دہشت گردی کو اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے اور وہ پاکستانی شہریوں کو ہدف بنا کر ایک خوفناک پیغام دینا چاہتا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے اقدامات کی سخت مذمت کریں، تحقیقات مکمل کر کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے معاشرتی اقدار کو بھی مضبوط کریں تاکہ ہمارے ملک میں امن و امان قائم رہے۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی صرف ہتھیار یا بم سے نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک منصوبہ بندی شدہ حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتی ہے، جس میں ہمارے شہری، ہمارے ادارے اور ہمارے معاشرتی نظام سب متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہر پاکستانی شہری، ہر ادارہ، اور ہر قانون نافذ کرنے والا محکمہ اس صورتحال میں اپنا کردار بخوبی سمجھیں اور ملکی سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔
یوسف صدیقی







