اردو غزلیاتشعر و شاعریعباس تابش

آنکھ پہ پٹی باندھ کے مجھ کو تنہا چھوڑ دیا ہے

عباس تابش کی ایک اردو غزل

آنکھ پہ پٹی باندھ کے مجھ کو تنہا چھوڑ دیا ہے

یہ کس نے صحرا میں لا کر صحرا چھوڑ دیا ہے

جسم کی بوری سے باہر بھی کبھی نکل آؤں گا

ابھی تو اس پر خوش ہوں اس نے زندہ چھوڑ دیا ہے

ذہن مرا آزاد ہے لیکن دل کا دل مٹھی میں

آدھا اس نے قید رکھا ہے آدھا چھوڑ دیا ہے

جہاں دعا ملتی تھی اللہ جوڑی سلامت رکھے

میں نے تیرے بعد ادھر سے گزرنا چھوڑ دیا ہے

چاروں شانے چت مٹی پر گرا پڑا ہوں تابشؔ

جانے کس نے دوسری جانب رسہ چھوڑ دیا ہے

عباس تابش

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button