آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

فلک پہ لے گا نہ مُجھ کو

ایک اردو غزل از رشید حسرت

فلک پہ لے گا نہ مُجھ کو زمِیں پہ چھوڑے گا
عدم سے لایا گیا تھا وہِیں پہ چھوڑے گا

عِبادتوں کا مِری کُچھ نہ کُچھ صِلہ تو مِلے
بس اِک نشان سا میری جبِیں پہ چھوڑے گا

لہُو پِلا کے جو بیٹا جوان مَیں نے کِیا
وہ گھر سے لا کے مُجھے اور کہِیں پہ چھوڑے گا

جو مشکلیں ہیں وہ آسان ہوتی جائیں گی
خُدا یہ بات تُمہارے یقِیں پہ چھوڑے گا

گُمان ہے یہ تُمہارا کہ دوست مُخلص ہے
پڑا جو وقت کہِیں پر، وہِیں پہ چھوڑے گا

شِکستہ حال مُجھے اُس نگر کو جانا پڑا
سِتارے یہ نِگہِ آبگِیں پہ چھوڑے گا

میں جانتا ہُوں اُسے بے ضمِیر اِتنا ہے
گُھما کے بات وہ پردہ نشِیں پہ چھوڑے گا

اُسے بھی مَلنا پڑے گا کبھی کفِ افسوس
مُعاملات جو شامِ حسِیں پہ چھوڑے گا

کِسی نے تِیرگی کی مُجھ سے فصل کٹوائی
مِلا جو نُور مُجھے بھی وہِیں پہ چھوڑے گا

فساد کیسا یہ مِیراث کے لِیئے بھائی
یہاں کی چِیز ہے سب کُچھ یہِیں پہ چھوڑے گا

مکِیں مکاں کو جو حسرتؔ بدلتے رہتے ہیں
مکان دُکھ یہ سبھی اب مکِیں پہ چھوڑے گا

رشید حسرت

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button