اردو نظمجاوید اخترشعر و شاعری

تم نہ جان پاؤ گے

جاوید اختر کی ایک اردو نظم

شہر کے دکاندارو ، کاروبار ِ الفت میں
سود کیا ۔۔۔ زِ یاں کیا ہے ۔۔
تم نہ جان پاؤ گے ۔۔۔

دل کے دام کتنے ہیں ۔۔خواب کتنے مہنگے ہیں
اور۔۔۔۔ ۔۔ نقد ِ جان کیا ہے ۔۔
تم نہ جان پاؤ گے ۔۔۔

کو ئی کیسے ملتا ہے ۔۔۔پھول کیسے کھلتا ہے
آنکھ کیسے جھکتی ہے ۔۔۔ سانس کیسے رکتی ہے
کیسے راہ نکلتی ہے ۔۔۔ کیسے بات چلتی ہے
شوخ کی زباں کیا ہے
تم نہ جان پاؤ گے

وصل کا سکوں کیا ہے ، ہجر کا جنوں کیا ہے
حسن کا فَسوں کیا ہے ۔۔عشق کا دَ روں کیا ہے
تم مریض ِ دانائی ۔۔۔ مصلحت کے شیدائی
راہ ِ گمرہاں کیا ہے۔۔۔۔
تم نہ جان پاؤ گے

جانتا ہوں میں تم کو ذوق ِ شاعری بھی ہے
شخصیت سجانے میں ، اِک یہ ماہری بھی ہے
پھر بھی حرف چنتے ہو ۔۔ صرف لفظ سنتے ہو ۔۔۔
اِن کے درمیاں کیا ہے ۔۔۔۔۔
تم نہ جان پاؤ گے

جاوید اختر

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button