اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

محمل نشیں ہیں کتنے خدام یار میں یاں

میر تقی میر کی ایک غزل

محمل نشیں ہیں کتنے خدام یار میں یاں
لیلیٰ کا ایک ناقہ سو کس قطار میں یاں

سن شور کل قفس میں دل داغ سب ہوا ہے
کیا پھول گل کھلے ہیں اب کے بہارمیں یاں

کب روشنی ہو میرے رونے میں ابر تجھ سے
دریا بھرے ہیں ایک اک دامن کے تار میں یاں

م تو گئے دکھاکر ٹک برق کے سے جھمکے
آیا بہت تفاوت صبر و قرار میں یاں

ہم مر گئے ولیکن سوز دروں وہی ہے
ایک آگ لگ اٹھی ہے کنج مزار میں یاں

ہجراں کی ہر گھڑی ہے سو سو برس تعب سے
روز شمار یارو ہے کس شمار میں یاں

جن راتوں میر ہم کو رونے کا مشغلہ تھا
رہتا تھا بحر اعظم سو تو کنار میں یاں

میر تقی میر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button