اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد

میر تقی میر کی ایک غزل

بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد
سو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد

جدائی کے حالات میں کیا کہوں
قیامت تھی ایک ایک ساعت کے بعد

موا کوہکن بے ستوں کھود کر
یہ راحت ہوئی ایسی محنت کے بعد

لگا آگ پانی کو دوڑے ہے تو
یہ گرمی تری اس شرارت کے بعد

کہے کو ہمارے کب ان نے سنا
کوئی بات مانی سو منت کے بعد

سخن کی نہ تکلیف ہم سے کرو
لہو ٹپکے ہے اب شکایت کے بعد

نظر میر نے کیسی حسرت سے کی
بہت روئے ہم اس کی رخصت کے بعد

میر تقی میر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button