اردو غزلیاتسعد اللہ شاہشعر و شاعری

دل کے سمندروں کو نہ پایاب دیکھنا

ایک اردو غزل از سعد اللہ شاہ

دل کے سمندروں کو نہ پایاب دیکھنا
ہر گام اپنے آپ کو غرقاب دیکھنا

گہرائیوں میں ڈوبنا، گوہر تلاشنا
گویا کہ چشمِ بحر میں نیلاب دیکھنا

دریا کا پانی گھونٹ بنا کوہسار کا
آنکھیں ہوئی ہیں وقت کی خونناب دیکھنا

ہوتا ہوں کیوں اُداس! کبھی جان لو گے تم
شامِ شفق کے عکس میں سرخاب دیکھنا

خوشبوئے شامِ وصل سے لبریز ساعتیں
اب دیکھنا ذرا، دلِ بیتاب، دیکھنا

دیکھے گا کون وسعتیں اس کائنات کی
اے سعدؔ آسمان کو محراب دیکھنا

سعد اللہ شاہ

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button