آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتعامر ابدال

زمیں کا سانچہ ہے اور آسمان کا خاکہ

ایک غزل از عامر ابدال

زمیں کا سانچہ ہے اور آسمان کا خاکہ
یقیں کے پاس کہیں ہے گمان کا خاکہ

تصورِ کفِ جاناں بنا ہے آئنہ سار
میں کھینچتا ہوں زمان و مکان کا خاکہ

حلاوتِ لبِ شیریں بیاں کروں کیسے
میں حرف و لفظ سے کھینچوں زبان کا خاکہ؟

ابھی جو رات گرے گی اجاڑ جنگل پر
دکھائی دے گا مکمل تھکان کا خاکہ

ہمارے جسم کی مٹی اڑا مجسّمہ ساز
بنے کسی کے قدم کے نشان کا خاکہ

خدایا کُن کی حقیقت کو سمجھے کیا ابدال
دوحرف اور یہ اتنے جہان کا خاکہ

عامر ابدال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button